تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 163
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۶۳ سورة ال عمران b جیسا کہ قرآن شریف نے حضرت عیسی کا بغیر باپ پیدا ہونا ( جس سے ان کی خدائی پر دلیل پیش کی جاتی تھی یہ کہہ کر رد کیا: إِنَّ مَثَلَ عِيسَى عِنْدَ اللهِ كَمَثَلِ آدَمَ خَلَقَهُ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ کہ پھر اگر حضرت عیسی در حقیقت مع جسم عصری آسمان پر چڑھ گئے تھے اور پھر نازل ہونے والے ہیں تو یہ تو ان کی ایسی خصوصیت تھی کہ بے باپ پیدا ہونے سے زیادہ دھو کہ میں ڈالتی تھی پس جواب دو کہ کہاں دھوکہ قرآن شریف نے اس کی کوئی نظیر پیش کر کے اس کو رد کیا ہے، کیا خدا تعالیٰ اس خصوصیت کے توڑنے سے (حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۴۳) عاجز رہا؟ وَاللَّهِ إِنَّ عِيسَى مَاتَ وَإِنَّهُمْ بخدا ! حضرت عیسی فوت ہوچکے ہیں اور اس کے منکر يُعانِدُونَ الْحَقِّ الطَّرِيحَ وَ يَقُولُونَ مَا ثابت شدہ سچائی کے دشمن ہیں اور وہ بات کہتے ہیں جو قرآن يُخَالِفُ الْقُرْآنَ وَ مَا يَخَافُونَ وَأَنى کے مخالف ہے اور ایسا کہتے ہوئے ڈرتے نہیں۔بھلا إشكالِ يَأْخُذُهُمْ في مَوْتِ عِيسَى بَل حضرت عیسی کی موت تسلیم کرنے میں انہیں کون سا اشکال هُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُونَ يُخضِصُونَهُ بِصِفَةٍ پیش آتا ہے حقیقت یہ ہے کہ یہ حد سے بڑھنے والے لوگ لا تُوجَدُ في أَحَدٍ مِنَ النَّاسِ، وَيُؤَيِّدُونَ ہیں وہ حضرت عیسی کو ایک ایسی صفت سے ممتاز کرتے النَّصَارَى وَهُمْ يَعْلَمُونَ وَكَيْفَ ہیں۔جو کسی انسان میں نہیں پائی جاتی اور جان بوجھ کر تَقْبَلُ غَيْرَةُ اللهِ أَنْ تُخَصِّصَ أَحَدًا عیسائیوں کی امداد کرتے ہیں۔بھلا خدا کی غیرت کیسے گوارا بِصِفَةٍ لَّا شَرِيكَ لَهُ فِيهَا مِنْ بَدءِ کر سکتی ہے کہ وہ کسی ہستی کو ایسی صفت سے مخصوص کرے الدُّنْيَا إلى أخِرِهَا، وَأَنَّى عَقِيْدَةٍ أَقْرَبُ جس میں نہ کوئی ابتدائے دنیا سے خدا کا شریک ہوا اور نہ إلَى الْكُفْرِ مِنْهَا، لَوْ كَانُوا يَتَدَبَّرُونَ۔قیامت تک ہو سکے گا۔اگر وہ سوچ بچار سے کام لیں تو اس فَإِنَّ التَّخْصِيْصَ أَسَاسُ الشركِ، وَأَئى سے بڑھ کر اور کون سا عقیدہ کفر سے مشابہ ہوسکتا ہے۔کیونکہ ذَلْبٍ أَكْبَرُ من الكِ أَيُّهَا الْجَاهِلُونَ اس قسم کی تخصیص ہی تو شرک کی جڑ ہے اور اسے جاہلو! شرک وَإِذْ قَالَتِ النَّصَارَى إِنَّ عِیسَی ابْنُ اللہ سے بڑا اور کون سا گناہ ہے؟ اور چونکہ عیسائی کہتے تھے کہ يمَا تَوَلَّد مِنْ غَيْرِ آبِ، وَكَانُوا به عیسی خدا کا بیٹا ہے کیونکہ وہ بغیر باپ پیدا ہوا تھا اور اس پر يَتَمَسَّكُونَ، فَأَجَابَهُمُ اللهُ بِقَوْلِهِ اِنَّ اصرار کرتے تھے۔اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ان مَثَلَ عِيسَى عِنْدَ اللهِ كَمَثَلِ آدَمَ ، خَلَقَۀ کا جواب دیا کہ إِنَّ مَثَلَ عِيسَى عِنْدَ اللهِ كَمَثَلِ أَدم