تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 162 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 162

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۶۲ سورة ال عمران یعنی جیتا جاگتا ہو گیا۔اب ظاہر ہے کہ کسی امر کی نظیر پیدا ہونے سے وہ امر بے نظیر نہیں کہلا سکتا اور جس شخص کے کسی عارضہ ء ذاتی کی کوئی نظیر مل جائے تو پھر وہ شخص نہیں کہہ سکتا یہ صفت مجھ سے مخصوص ہے۔(تحفہ گولڑ و بیه، روحانی خزائن جلد ۷ ۱ صفحه ۲۰۲، ۲۰۳ حاشیه ) یادر ہے کہ خدا نے بے باپ پیدا ہونے میں حضرت آدم سے حضرت مسیح کو مشابہت دی ہے اور یہ بات کہ کسی دوسرے انسان سے کیوں مشابہت نہیں دی؟ یہ محض اس غرض سے ہے کہ تا ایک مشہور متعارف نظیر پیش کی جائے کیونکہ عیسائیوں کو یہ دعویٰ تھا کہ بے باپ پیدا ہونا حضرت مسیح کا خاصہ ہے اور یہ خدائی کی دلیل ہے پس خدا نے اس حجت کے توڑنے کے لئے وہ نظیر پیش کی جو عیسائیوں کے نزدیک مسلم اور مقبول ہے اگر خدا تعالیٰ اپنی مخلوقات میں سے کوئی اور نظیر پیش کرتا تو وہ اس نظیر کی طرح بدیہی اور مسلم الثبوت نہ ہوتی اور ایک نظری امر ہو تاور نہ دنیا میں ہزار ہا افراد ایسے ہیں جو بے باپ پیدا ہوئے ورنہ ہیں اور غایت کار یہ امر امور نادرہ میں سے ہے نہ یہ کہ خلاف قانون قدرت اور عادت اللہ سے باہر (تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۲۰۸ حاشیه ) ہے۔ایسا قادر خدا جو ابتداء دنیا میں صرف مٹی سے انسان کو پیدا کر دیتا ہے پھر اگر وہ کسی انسان کو صرف عورت کے نطفہ سے ہی پیدا کرے تو یہ کون سی تعجب کی جگہ ہے۔ظاہر ہے کہ نطفہ بہ نسبت مٹی کے بچہ پیدا ہونے کے لئے بہت قریب استعداد رکھتا ہے اور مٹی کی استعداد ایک استعداد بعیدہ ہے پس جبکہ تمہارا یہ اقرار ہے کہ جو چیز استعداد بعید رکھتی ہے اس سے انسان پیدا ہو سکتا ہے تو پھر یہ کہنا کہ جو چیز بہ نسبت مٹی کے بچہ پیدا ہونے کے لئے استعداد قریب رکھتی ہے اس سے بچہ پیدا نہیں ہو سکتا اگر یہ حماقت نہیں تو اور کیا ہے؟ اسی وجہ سے خدا تعالیٰ نے یسوع کی پیدائش کی مثال بیان کرنے کے وقت آدم کو ہی پیش کیا ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے : إِنَّ مَثَلَ عِيسَى عِنْدَ اللهِ كَمَثَلِ آدَمَ - خَلَقَهُ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ يعنى عیسی کی مثال خدا تعالیٰ کے نزدیک آدم کی ہے کیونکہ خدا نے آدم کو مٹی سے بنا کر پھر کہا کہ تو زندہ ہو جا پس وہ زندہ ہو گیا۔چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۲۲۷) ہمارے مخالفوں کا یہ اعتقاد کہ حضرت عیسی علیہ السلام صلیب سے محفوظ رہ کر آسمان پر مع جسم عصری چڑھ گئے۔یہ ایسا اعتقاد ہے جس سے قرآن شریف سخت اعتراض کا نشانہ ٹھہرتا ہے کیونکہ قرآن شریف ہر ایک جگہ عیسائیوں کے ایسے دعاوی کو جن سے حضرت عیسی کی خدائی ثابت کی جاتی ہے رد کرتا ہے b