تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 159
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۵۹ سورة ال عمران ( آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۴۳۴، ۴۳۵) مِنْ نُّزُوْلِ الْمَسِيحِ فِي هَذِهِ السّلْسِلَة اس سلسلہ میں نزول مسیح کے بارے میں کچھ بھی ذکر نہیں فرمایا شَيْئًا وَمَا أَحْدَتَ في هذا الأمر ذكرا اور نہ ہی اس امر کے بارہ میں کوئی نئی بات بیان فرمائی۔الْأَمْرِ ذِكْرًا۔(ترجمه از مرتب) اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا ہے: وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلَى يَوْمِ الْقِيِّمَةِ يَلى بخش وعدہ ناسوت میں پیدا ہونے والے ابن مریم سے ہوا تھا۔مگر میں تمہیں بشارت دیتا ہوں کہ یسوع مسیح کے نام سے آنے والے ابن مریم کو بھی اللہ تعالیٰ نے انہی الفاظ میں مخاطب کر کے بشارت دی ہے اب آپ سوچ لیں کہ جو میرے ساتھ تعلق رکھ کر اس وعدہ عظیم اور بشارت عظیم میں شامل ہونا چاہتے ہیں کیا وہ ، وہ لوگ ہو سکتے ہیں جوا تارہ کے درجہ میں پڑے ہوئے فسق و فجور کی راہوں پر کار بند ہیں؟ نہیں، ہر گز نہیں ! رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ ء صفحہ ۱۰۰) جو لوگ مجھے قبول کرتے ہیں ان کی دین ودنیا بھی اچھی ہوگی کیونکہ اللہ تعالٰی وعدہ فرما چکا ہے وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلى يَوْمِ الْقِيِّمَةِ در حقیقت وہ زمانہ آتا ہے کہ ان کو امیت سے نکال کر خود قوت بیان عطا کرے گا اور وہ منکروں پر غالب ہوں گے۔(الحکم جلد ۶ نمبر ۴۴ مورخه ۱۰ر دسمبر ۱۹۰۲ صفحه ۲) قرآن شریف نے فیصلہ کر دیا اسی کی طرف اللہ جل شانہ نے اشارہ فرمایا ہے: یعنی اتی مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَى یعنی اے عیسی ! میں تجھے طبعی وفات دوں گا اور اپنی طرف تیرا رفع کروں گا یعنی تو مصلوب نہیں ہوگا۔اس آیت میں یہود کے اس قول کا رد ہے کہ وہ کہتے تھے کہ عیسی مصلوب ہو گیا اس لئے ملعون ہے۔اور خدا کی طرف اس کا رفع نہیں ہوا اور عیسائی کہتے تھے کہ تین دن لعنتی رہ کر پھر رفع ہوا۔اور اس آیت نے یہ فیصلہ کیا کہ بعد وفات بلا توقف خدا تعالیٰ کی طرف عیسی کا رفع روحانی ہوا اور خدا تعالیٰ نے اس جگہ رَافِعُكَ إِلَى السَّمَاءِ نہیں کہا بلکہ رَافِعُكَ ال فرمایا تا رفع جسمانی کا شبہ نہ گزرے کیونکہ جو خدا تعالیٰ کی طرف جاتا ہے وہ روح سے جاتا ہے نہ جسم سے ارجعي إلى رتك (الفجر :۲۹)۔اس کی نظیر ہے۔غرض اس طرح پر یہ جھگڑا فیصلہ پایا۔مگر ہمارے نادان مخالف جو رفع جسمانی کے قائل ہیں وہ اتنا بھی نہیں سمجھتے کہ جسمانی رفع امر متنازع فیہ نہ تھا اور اگر اس بے تعلق امر کو بفرض محال قبول کر لیں تو پھر یہ سوال ہوگا کہ جو روحانی رفع کے متعلق یہود اور نصاریٰ میں جھگڑا تھا۔اس کا فیصلہ قرآن کی کن آیات میں بیان فرمایا گیا ہے۔آخر لوٹ کر اسی طرف آنا پڑے گا کہ وہ آیات یہی ہیں۔کتاب البریہ، روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحه ۳۶۲)