تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 158 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 158

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۵۸ سورة ال عمران مَاتَ تِلْكَ كَلِمُ مُتَهَافِتَةٌ مُتَنَاقِضَةٌ لَّا کی صریح موت کے (ذکر کے ) بعد اس کی حیات کیسے يَنطِقُ بِهَا إِلَّا الَّذِي ضَلَّتْ حَوَاشه معلوم ہوئی ؟ وہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ وہ وفات یافتہ لوگوں سے جاملا پھر کہتے ہیں کہ وہ نہیں مرا۔یہ کلمات بلا سوچے وَغَرَبَ عُقْلُهُ وَقِيَاسُهُ وَتَرَكَ طَرِيق سمجھے اور متناقض ہیں اور یہ صرف وہی بول سکتا ہے جو جو اس الْمُهْتَدِينَ يَا آسَفَا عَلَيْهِمُ : إِنَّهُمُ باعتہ عقل و فہم سے عاری اور ہدایت یافتہ لوگوں کے اتَّفَقُوا عَلَى الضَّلَالَةِ جَمِيعًا ، وَ خَلْطُوا في طریق کو چھوڑ بیٹھا ہو۔ان پر بہت افسوس ہے کہ وہ سب الْكَلَامِ تَخلِيْطًا شَنِيْعًا فَكَيْفَ نَقْبَلُ کے سب ضلالت پر متفق ہو گئے ہیں۔اور کلام نہایت ہی قَوْلَهُمُ الَّذِي يُخَالِفُ الْقُرْآنَ وَكَيْفَ برا خلط ملط کر دیا ہے پس ہم کیسے اُن کے قول کو قبول کر سکتے ہیں جو خلاف قرآن ہے اور اُن کے وہم کو تسلیم کر سکتے نُسَلِّمُ وَهُمَهُمُ الَّذِي لَا يَشْفِي الْجَنَانَ؟ ہیں جو دلوں کو اطمینان نہیں بخشا کیا ہم ان کی ایسی خرافات کو جن کے ساتھ حجت قاطعہ اور تسکین دینے والے واضح انقبل خُرَا فَا بِهِمُ الَّتِي لَيْسَتْ مَعَهَا حُجةٌ قَاطِعَةٌ وَلَا دَلَائِلٌ مُقيعَةٌ وَاضِعَةٌ ؟ دلائل نہیں قبول کر سکتے ہیں۔( ترجمہ از مرتب) انجام آتھم ، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۸۴،۸۳) اَيُّهَا النَّاسُ قَدْ اَعْتَرَنِي اللهُ عَلَى اے لوگو! اللہ تعالیٰ نے اس راز کے بارے میں مجھے هذا الشير وعَلّمين ما لَمْ تَعْلَمُوا وَ اطلاع دی ہے اور مجھے وہی کچھ سکھایا ہے جوتم نہیں جانتے اور اَرْسَلين إلَيْكُمْ حَكَمًا عَدَلًا لاكشف مجھے تمہاری طرف حکم اور عدل بنا کر بھیجا ہے تا کہ میں ان امور عَلَيْكُمْ مَا كَانَ عَلَيْكُمْ مُسْتَقِرًا فَلا کو جو تم سے پوشیدہ تھیں تم پر ظاہر کروں۔پس تم نہ جھگڑو اور نہ تُمَارُوا وَلَا تُجَادِلُوا وَ تَدَبَّرُوا فِي قَوْلِهِ بحث کرو اور اللہ تعالیٰ کے اس قول ” يُعِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ“ يُعِيسَى إِلى مُتَوَفِّيكَ وَاقْرَءُوا هَذِهِ الْآيَةَ (اے عیسی میں تجھے وفات دوں گا ) پر غور کرو اور یہ آیت إِلَى قَوْلِهِ يَوْمِ الْقِيمَةِ ثُمَّ أَمْعِنُوا النظر ارشادِ خداوندى " يَوْمِ الْقِيِّمَةِ" تک پڑھو۔پھر اے عقلمندو! يَا أُولِي النُّهى وَانْظُرُوا كَيْفَ افْتَتَحَ اللهُ تم دقیق نظر سے دیکھو اس پر غور کرو کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے مِن وَفَاةِ الْمَسِيحِ وَ ذِكْرِ كُلِ وَاقِعَةٍ وفات مسیح کے بارہ میں واقعات کو کھولا ہے اورطبیعی ترتیب سے بِتَرْتِيبِ طَبْعِي تَتَعَلَّقُ بِعِيسَى حَتَّى حضرت عیسی علیہ السلام کے تعلق میں ہر واقعہ کو بیان فرمایا ہے الحتَتَمَهَا عَلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَ لَمْ يَذْكُزا یہاں تک اس بیان کا یوم القیامۃ پر اختام فرمایا ہے اور