تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 160 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 160

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام 17۔سورة ال عمران جَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلى يَوْمِ الْقِيمَةِ (سے) ثابت ہوتا ہے کہ دجال عیسائیوں کے سوا کوئی علیحدہ گروہ نہیں ہوگا کیونکہ جب غلبہ اور سلطنت قیامت تک عیسائیوں کے لئے مقدر ہے یا مسلمانوں کے لئے جو حقیقی متبع ہیں تو پھر کون ایماندار یہ گمان کر سکتا ہے کہ ایک اور شخص جو حضرت عیسی کا مخالف ہے اور ان کو نبی نہیں جانتا تمام زمین پر اپنا تسلط جمالے گا ؟ ایسا خیال تو نص صریح قرآن شریف تتمہ حقیقة الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۴۵۶، ۴۵۷) کے مخالف ہے۔( قرآن نے ) تَوَفَّيْتَنِی فرمایا اور بخاری نے اپنا مذہب اور اس آیت کے معنے بیان کر دیئے کہ مُتَوَفِّيكَ : مُميتك - تو پھر اس کے بعد خواہ نخواہ ان کو زندہ آسمان پر بٹھانا ان لوگوں کی کیسی غلطی ہے وہ بیچارہ تو خود بھی دہائی دیتا ہے کہ یہ لوگ میرے مرنے کے بعد بگڑے ہیں بھلا اب ہمیں کوئی بتاوے کہ یہ لوگ ابھی بگڑے ہوئے ہیں یا نہیں؟ اگر یہ بگڑے ہیں تو مسیح وفات پاچکے ہیں۔الحاکم جلد نمبر ۱۸ مؤرخہ ۱۷ارمئی ۱۹۰۳ صفحه ۲) پہلا جھگڑا وفات مسیح کا ہی ہے۔کھلی کھلی آیات اس کی حمایت میں ہیں۔يُعِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَى پر فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنتَ أنتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ ( المائدة : ۱۱۸ ) یہ عذر بالکل جھوٹا ہے کہ توفی کے معنی کچھ اور ہیں۔ابن عباس رضی اللہ عنہ اور خود بادی کامل صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے معنی امانت کے کر دیئے ہیں۔یہ لوگ بھی جہاں لفظ توقی استعمال کرتے ہیں تو معنی امانت اور قبض روح کے مراد لیتے ہیں۔قرآن شریف نے بھی ہر ایک جگہ اس لفظ کے یہی معنے بیان کیے ہیں۔رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ء صفحہ ۵۸۰) قرآن شریف تو رفع اختلاف کے لیے آیا ہے۔اگر ہمارے مخالف رَافِعُكَ اِلی کے یہ معنے کرتے ہیں کہ حضرت مسیح جسم سمیت آسمان پر چڑھ گئے تو وہ ہمیں یہ بتائیں کہ کیا یہود کی یہ غرض تھی اور وہ یہ کہتے تھے کہ مسیح آسمان پر نہیں چڑھا ؟ اُن کا اعتراض تو یہ تھا کہ حضرت مسیح کا رفع الی اللہ نہیں ہوا۔یعنی اُسے قرب الی اللہ نصیب نہیں ہوا۔اگر رافعہ رائی اس اعتراض کا جواب نہیں، تو پھر چاہیے کہ اُن کے اس اعتراض کا جواب دیا اور دکھایا جائے۔الحکم جلد ۸ نمبر ۲۵ ۲۶ مورخه ۳۱ جولائی ۰ اسراگست ۱۹۰۴ صفحه ۱۳) / فَاَمَّا الَّذِينَ كَفَرُوا فَأَعَةِ بُهُمْ عَذَابًا شَدِيدًا فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَ ور وردو مَا لَهُمْ مِنْ تُصِرِينَ وَ اَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ فَيُوَفِّيهِم