تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 149 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 149

تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام ۱۴۹ سورة ال عمران اشتَرَكُوا بِرَئيمُ وَلَيْسُوا في شُرُك گمراہ ہو چکے ہیں اور دوسروں کو بھی انہوں نے گمراہ کیا ہوا ہے كَالأَسارَى وَإِنْ أَقْرَرْتُ بأنهم قد تو پھر لازمی طور پر تمہیں اس کا بھی اقرار کرنا ہوگا کہ میسیج مر گئے ضَلُّوا وَأَضَلُّوا فَلَزِمَكَ الْإِقْرَارُ بِأَنَّ اور فوت ہو گئے۔کیونکہ ان (نصاری) کی گمراہی مسیح کی وفات الْمَسِيحَ قَدْ مَاتَ وَفَاتَ فَاِن پر موقوف ہے اس لئے غور کرو اور بے حیاؤں کی طرح فضول بحث ضَلَالَعَهُمْ كَانَتْ مَوْقُوفَةٌ عَلى وَفَاةِ نہ کرو اور یہ وفات مسیح کا ) کا معاملہ قرآن اور انس و جن کے الْمَسِيحِ فَتَفَكَّرُ وَلَا تُجَادِلْ كَالْوَقِيح امام اور نبی (حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) کی وَهَذَا اَمْرُ قَد ثَبَتَ مِنَ الْقُرْآنِ وَمِن حدیث سے ثابت شدہ ہے۔اس لئے تمہیں کسی ایسی حَدِيثِ إِمَامِ الْإِنْسِ وَنَبِي الْجَانِ فَلا روایت پر کان نہیں دھرنے چاہئیں جو ان کے مخالف ہو۔تَسْمَعُ رِوَايَةٌ خَالِفُهَا، وَإِنَّ الْحَقِيقَةُ قَدِ حقیقت تو کھل کر سامنے آچکی۔اس لئے تم کسی ایسے شخص کی انكَشَفَتْ فَلَا تَلْتَفِتْ إِلى مَنْ خَالَفَهَا، طرف توجہ مت دو جوان کا مخالف ہے اور نہ ہی تم اس کے وَلَا تَلْتَفِتْ بَعْدَهَا إِلى رِوَايَةٍ والراوي، بعد کسی روایت اور راوی کی طرف توجہ دو۔ان دعاوی کے وَلَا مُهْلِك نَفْسَكَ مِنَ الدَّعَاوِي وَفَكِّر باعث اپنے تئیں ہلاک نہ کرو۔اور عاجزی اختیار کرنے كَالْمُتَوَاضِعِينَ۔هَذَا مَا ذَكَرنَاك من والوں کی طرح غور و فکر کرو۔یہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وسلم ) و النّبِي وَالصَّحَابَةِ لِنُزِيلَ عَنكَ غِشَاوَةٌ اور صحابہ کرام کا وہ عقیدہ) ہے جو ہم نے تجھے یاد دلایا ہے الْإِسْتِرَابَةِ، وَأَمَّا حَقِيقَةُ اجتماعِ الَّذِينَ تا کہ ہم تجھ سے شکوک کا پردہ ہٹا دیں۔صحابہ کے بعد آنے جَاء وَا بَعْدَهُمْ، فَنَذَكُرُكَ شَيْئًا من والے لوگوں کے اجماع کی حقیقت کا جہاں تک تعلق ہے تو كَلِيهِمْ، وَإِنْ كُنْتَ مِن قَبْلُ مِن اُن کی بعض باتوں کا ذکر ہم آئندہ تم سے کریں گے۔اگر چہ تم اس سے پہلے محض غافل تھے۔الْغَافِلِينَ فَاعْلَمُ أَنَّ الْإِمَامَ الْبُخَارِ جان لو کہ امام بخاری جو اللہ کے فضل سے رئیس المحدثین الَّذِي كَانَ رَئِيسَ الْمُحَدِّثِينَ من تھے وہ وفات مسیح کا سب سے پہلے اقرار کرنے والے تھے فَضْلِ الْبَارِى كَانَ أَوَّلَ الْمُقِرِينَ جیسا کہ انہوں نے اپنی صحیح میں اس کی جانب اشارہ فرمایا يوَفَاةِ الْمَسِيحِ، كَمَا أَشَارَ إِلَيْهِ فِی ہے۔انہوں نے ان دو آیتوں (إِنِّي مُتَوَفِيكَ فَلَمَّا الصَّحِيحِ، فَإِنَّهُ جَمَعَ الْآيَتَيْنِ لِهَذَا تَوَفَّيْتَنِى ) کو اس غرض سے جمع کیا تھا تا کہ وہ دونوں ایک