تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 149
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۴۹ سورة ال عمران اشْرَكُوا بِرَبِّهِمْ وَلَيْسُوا فِي شُرْكٍ گمراہ ہو چکے ہیں اور دوسروں کو بھی انہوں نے گمراہ کیا ہوا ہے كَالْآسَارَى وَإِنْ أَقْرَرْتَ بِأَنَّهُمْ قَدْ تو پھر لازمی طور پر تمہیں اس کا بھی اقرار کرنا ہو گا کہ مسیح مر گئے ضَلُّوا وَأَضَلُّوا، فَلَزِمَكَ الْإِقْرَارُ بِأَنَّ اور فوت ہو گئے۔ کیونکہ ان (نصاری) کی گمراہی مسیح کی وفات الْمَسِيحَ قَدْ مَاتَ وَفَاتَ، فَإِنَّ پر موقوف ہے اس لئے غور کرو اور بے حیاؤں کی طرح فضول بحث ضَلَالَتَهُمْ كَانَتْ مَوْقُوفَةٌ عَلى وَفَاةِ نہ کرو اور یہ (وفات مسیح کا ) کا معاملہ قرآن اور انس و جن کے الْمَسِيحِ، فَتَفَكَّرُ وَلَا تُجَادِلُ كَالْوَقِيحِ امام اور نبی ( حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وس علیہ وسلم) کی وَهُذَا أَمْرٌ قَدْ ثَبَتَ مِنَ الْقُرْآنِ وَمِنْ حدیث سے ثابت شدہ ہے۔ اس لئے تمہیں کسی ایسی حَدِيثِ إِمَامِ الْإِنْسِ وَنَبِي الْجَانِ، فَلَا روایت پر کان نہیں دھر نے چاہئیں جو ان کے مخالف ہو۔ تَسْمَعُ رِوَايَةً تُخَالِفُهَا، وَإِنَّ الْحَقِيقَةَ قَدِ حقیقت تو کھل کر سامنے آچکی ۔ اس لئے تم کسی ایسے شخص کی انْكَشَفَتْ فَلَا تَلْتَفِتْ إِلَى مَنْ خَالَفَهَا، طرف توجہ مت دو جوان کا مخالف ہے اور نہ ہی تم اس کے وَلَا تَلْتَفِتْ بَعْدَهَا إِلَى رِوَايَةٍ وَالرَّاوِى بعد کسی روایت اور راوی کی طرف توجہ دو۔ ان دعاوی کے وَلَا تُهْلِكَ نَفْسَكَ مِنَ الدَّعَاوِى، وَفَكِّرُ باعث اپنے تئیں ہلاک نہ کرو۔ اور عاجزی اختیار کرنے كَالْمُتَوَاضِعِينَ هُذَا مَا ذَكَرْنَاكَ مِنَ والوں کی طرح غور و فکر کرو۔ یہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وسلم ) النَّبِيِّ وَالصَّحَابَةِ لِنُزِيلَ عَنْكَ غِشَاوَة اور صحابہ کرام کا وہ (عقیدہ) ہے جو ہم نے تجھے یاد دلایا ہے الْإِسْتِرَابَةِ، وَأَمَّا حَقِيقَةُ إِجْمَاعِ الَّذِينَ تا کہ ہم تجھ سے شکوک کا پردہ ہٹا دیں۔ صحابہ کے بعد آنے جَاءُ وُا بَعْدَهُمْ، فَنُذَكُرُكَ شَيْئًا مِنْ والے لوگوں کے اجماع کی حقیقت کا جہاں تک تعلق ہے تو シ كَلِمِهِمْ، وَإِنْ كُنْتَ مِنْ قَبْلُ مِنْ اُن کی بعض باتوں کا ذکر ہم آئندہ تم سے کریں گے۔ اگر چہ تم الْغَافِلِينَ اس سے پہلے محض غافل تھے۔ فَاعْلَمْ أَنَّ الْإِمَامَ الْبُخَارِي جان لو کہ امام بخاری جو اللہ کے فضل سے رئیس المحدثین الَّذِي كَانَ رَئِيسَ الْمُحَدِّثِينَ مِنْ تھے وہ وفات مسیح کا سب سے پہلے اقرار کرنے والے تھے فَضْلِ الْبَارِى كَانَ أَوَّلَ الْمُقِرِّينَ جیسا کہ انہوں نے اپنی صحیح میں اس کی جانب اشارہ فرمایا بِوَفَاةِ الْمَسِيحِ، كَمَا أَشَارَ إِلَيْهِ فِي ہے ۔ انہوں نے ان دو آیتوں ( إِنِّي مُتَوَفِّيكَ فَلَمَّا الصَّحِيحِ، فَإِنَّهُ جَمَعَ الْآيَتَيْنِ لِهَذَا تَوَفَّيْتَنِي ) کو اس غرض سے جمع کیا تھا تا کہ وہ دونوں ایک