تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 148
تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام ۱۴۸ سورة ال عمران وَكَانَ سَيْدَ الْمَعْصُومِينَ؟ فَاجْتَنِبُوا تمام معصوموں کا سردار ہے صلی اللہ علیہ وسلم پس اس قسم کے مِثْلَ هَذِهِ التَّعَصُّبَاتِ وَاذْكُرُوا تعصبات سے اجتناب کرو۔اے موت کے کیڑو! موت کو الْمَوْتَ يَا دُوْدَ الْمَمَاتِ، انترَكُونَ في یاد رکھو! کیا تم سمجھتے ہو کہ ) تمہیں دنیا میں یونہی شاداں و فرحاں الدُّنْيَا فَرِحِينَ فَاذْكُرُوا يَوْمًا چھوڑ دیا جائے گا۔اُس دن کو یاد کرو جب اللہ تمہیں وفات يَتَوَفَّاكُمُ اللهُ ثُمَّ تُرْجَعُونَ إِلَيْهِ فَرَادَی دے گا پھر تم اُس کی طرف ایک ایک کر کے لوٹائے جاؤ فُرَادَى، وَلا يَنصُرُكُمْ مَنْ خَالف الحق گے۔اور کوئی بھی حق کا مخالف اور دشمن تمہاری مدد نہ کر سکے وَعَادَى وَتُسْأَلُونَ كَالْمُجْرِمِينَ گا اور تم سے مجرموں کی طرح باز پرس کی جائے گی۔وَأَمَّا قَوْلُ بَعْضِ النَّاس من الحمقى رہا بعض احمق لوگوں کا یہ قول کہ عیسی کا روحانی زندگی أَنَّ الْإِجْمَاعَ قَدِ انْعَقَدَ عَلى رفع عیسی کے ساتھ نہیں بلکہ جسمانی زندگی کے ساتھ بلند آسمانوں کی إِلَى السَّمَاوَاتِ الْعُلى بِحَيَاتِهِ الْجِسْمَانِي طرف رفع پر اجماع ہو چکا ہے تو جان لے کہ یہ قول محض لا بِحَيَاتِهِ الرُّوحَانِي فَاعْلَمْ أنَّ هذا ایک لغو بات اور ایک گھٹیا سودا ہے جسے صرف جاہل ہی خرید الْقَوْلَ فَاسِدٌ وَ مَتَاعٌ كَاسِ لا يَشْتَرِيْهِ سکتا ہے۔اجماع سے مراد اجماع صحابہ ہے اور وہ اس لَّا ย إِلَّا مَنْ كَانَ مِنَ الْجَاهِلِينَ۔فَإِنَّ الْمُرَادَ عقیدہ میں ثابت نہیں ہے (حضرت ) ابن عباس نے مِنَ الْإِجْمَاعِ إِلجَمَاعُ الصَّحَابَةِ، وَهُوَ مُتَوَفِّيكَ كے معنى مُميتك کے کئے ہیں۔پس موت تو ثابت لَيْسَ بِثَابِتٍ فِي هَذِهِ الْعَقِيدَةِ، وَقَد ہے خواہ تیرا بھوت اس کو قبول نہ کرے۔اے وہ شخص جس قَالَ ابْنُ عَبَّاسِ مُتَوَفِّيكَ مُميتك نے مجھے تکلیف دی ہے ! تم نے یہ سنا ہے کہ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِی فَالْمَوْتُ ثَابِتُ وَإِن لَّمْ يَقْبَل کی آیت دلالت قطعیہ اور واضح عبارت سے اس امر کی عِفْرِيتُكَ۔وَقَدْ سَمِعْتَ يَا مَنْ اذَيْتَنِي آن طرف رہنمائی کرتی ہے کہ جو وفات حضرت ابنِ عباس کی ايَةً فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنى تَدلُّ بِدَلَالَةٍ قطعية تفسیر سے ثابت ہوتی ہے وہ وقوع پذیر ہوگئی اور پایہ تکمیل قَطْعِيَّةٍ و عِبَارَةٍ واضحةٍ أَنَّ الْإِمَانَةَ الَّتِي ثَبَتَت کو پہنچ گئی نہ یہ کہ وہ واقع ہونے والی ہے جیسا کہ بعض لوگوں مِنْ تَفْسِيرِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَد وَقَعَت کا خیال ہے۔کیا تم خیال کرتے ہو کہ نصاری نے اپنے ربّ وَتَمَّتْ وَلَيْسَ بِوَاقِعِ كَمَا ظَنَ بَعْضُ کے ساتھ شریک نہیں ٹھہرایا ؟ اور کیا وہ قیدیوں کی طرح اس النَّاسِ أَفَأَنْتَ تَظن أن النصاری ما کے دام میں گرفتار نہیں ہیں؟ اگر تم یہ اقرار کرتے ہو کہ وہ