تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 150 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 150

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۵ سورة ال عمران الْمُرَادِ لِيَتَظَاهَرا وَيَحْصُلُ الْقُوَّةَ دوسرے کو تقویت دیں اور اجتہاد مضبوط ہو اور اگر تمہارا یہ لِلْإِجْتِهَادِ وَإِن كُنتَ تَزْعَمُ أَنَّهُ مَا جَمع خیال ہے کہ اُنہوں نے ان دو متباعد آئینوں کو اس نیست الْآيَتَيْنِ الْمُتَبَاعِدَتَيْنِ لِهذِهِ النِّيَّةِ، وَمَا سے جمع نہیں کیا تھا اور اُن کی غرض اس عقیدہ ( وفات مسیح ) كَانَ لَهُ غَرْضٌ لاثبات هذِهِ الْعَقِيدَة کو ثابت کرنے کی نہیں تھی۔تو پھر اگر تم چشم بصیرت رکھتے فَبَيْن لِمَ جَمَعَ الْآيَتَيْنِ إِن كُنتَ مِن ہو تو بتاؤ کہ انہوں نے ان دو آیتوں کو کیوں جمع کیا ؟ اور ذَوِى الْعَيْنَيْنِ وَإِن لَّمْ تُبَيِّنَ، وَلَن اگر تم اس کی وضاحت نہ کر سکو اور تم ہرگز نہیں کر سکو گے تو تُبَيِّنَ فَاتَّقِ اللهَ وَلَا تُصِر على طرُقِ پھر اللہ سے ڈرو اور فاسقوں کی راہوں پر چلنے پر اصرار نہ الْفَاسِقِين کرو۔ثُمَّ بَعْد الْبُخَارِي انظُرُوا يَا ذَوِى اے صاحب بصیرت لوگو ! پھر بخاری کے بعد تم اپنی الأبصار، إلى كِتَابِكُمُ الْمُسَلَّمِ تجمع مسلم کتاب مجمع البھا ر پر غور کرو۔اُس نے (حضرت ) الْبِحَارِ، فَإِنَّهُ ذَكَرَ الختلافات في آخر عیسی علیہ السلام کے معاملے میں اختلافات کا ذکر کیا عِيسَى عَلَيْهِ السَّلامُ، وَقَدَّمَ الْحَيَاةَ ثُمَّ ہے۔اور پہلے ان کی حیات کا ذکر کیا ہے اور پھر کہا ہے قَالَ: وَقَالَ مَالِكَ مَّاتَ فَانظُرُوا کہ مالک فرماتے ہیں کہ وہ فوت ہو گئے۔اے اہل الْمَجْمَعَ يَا أَهْلَ الْأَرَاءِ ، وَخُذُوا حَظا من دانش ! مجمع البجا رکو دیکھو اور کچھ حیاء سے کام لو۔اے الْحَيَاء ، هذَا هُوَ الْقَوْلُ الَّذِي تَكْفُرُونَ فتنہ پرداز و! یہ ہے وہ قول جس کا تم انکار کر رہے ہو اور بِهِ وَتَقْطَعُونَ مَا آمَرَ الله به آن يُوصَل وہ چیز جس کے متعلق اللہ نے ملانے کا حکم دیا ہے اُسے وَبَاعَدُكُمْ عَنْ مَقَامِ الْإِنْفَاءِ ، اليْسَ قطع کرتے ہو۔اور تقویٰ کے مقام سے دور ہٹ گئے مِنْكُمْ رَجُلٌ رَشِيد يا معشر ہو۔کیا تم میں ایک بھی عقل والا نہیں؟ طبرانی اور مستدرک الْمُفْتَتِبِينَ وَجَاءَ في الطبرانی میں (حضرت) عائشہ سے روایت ہے وہ بیان کرتی ہیں وَالْمُسْتَدْرِكِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ که رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عیسی ابن مریم رَسُولُ اللهِ صَلْعَمْ إِنَّ عِيسَى بْنَ مَرْيَمَ ایک سو میں سال زندہ رہے۔پھر ان شہادتوں کے عَاشَ عِشْرِينَ وَمِائَةَ سَنَةً ثُمَّ بَعْدَهُذِهِ علاوه ابن القیم المحدث کی جانب نظر دوڑاؤ جن کی الشَّهَادَاتِ انْظُرُوا إِلَى ابْنِ الْقَيْمِ باریک بینی کا ایک عالم گواہ ہے۔انہوں نے اپنی کتاب