تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 122
۱۲۲ تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة ال عمران لیا جائے تو پھر اس فقرہ کے رکھنے کے لئے کوئی اور جگہ نہیں ملتی کیونکہ اس کو فقرہ رَافِعُكَ اِلَی کے بعد نہیں رکھ سکتے وجہ یہ کہ بموجب عقیدہ معتقدین رفع جسمانی کے رفع کے بعد بلا فاصلہ موت نہیں ہے بلکہ ضرور ہے کہ آسمان مسیح کو تھامے رہے جب تک کہ خاتم الانبیاء کے ظہور کے ساتھ وعدہ تطہیر پورا نہ ہو جائے۔ایسا ہی فقرہ مُطَهَّرُكَ کے بعد بھی نہیں رکھ سکتے کیونکہ بموجب خیال اہل اس عقیدہ کے تطہیر کے بعد بھی بلا فاصلہ موت نہیں ہے بلکہ دائمی غلبہ کے بعد موت ہوگی۔اب رہا غلبہ یعنی وعده فقره وَ جَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوا إِلى يَوْمِ القِيمة سو اس فقرہ کا دامن قیامت تک پھیلا ہوا ہے اس لئے اس جگہ بھی فقرہ متوفيك کو رکھ نہیں سکتے جب تک قیامت کا دن نہ آجائے اور قیامت کا دن تو حشر کا دن ہو گا نہ کہ موت کا دن۔لہذا معلوم ہوا کہ حضرت مسیح علیہ السلام کے حصہ میں موت نہیں اور وہ بغیر مرنے کے ہی قیامت کے میدان میں پہنچ جائیں گے اور یہ خیال وعدہ توفی کے برخلاف ہے۔لہذا فقرہ مُتَوَفِّيكَ کو اپنی جگہ سے اُٹھانا موجب اجتماع نقیضین ہے اور وہ محال۔اس لئے اس فقرہ کی تاخیر بھی محال ہے اور اگر محال نہیں تو کوئی ہمیں بتلاوے کہ اس فقرہ کو اس جگہ سے اُٹھا کر کہاں رکھا جائے اور اگر کہے کہ رَافِعُكَ کے بعد رکھا جائے تو ہم ابھی لکھ چکے ہیں کہ اس جگہ تو ہم کسی طرح نہیں رکھ سکتے کیونکہ یہ کسی کا عقیدہ نہیں ہے کہ رفع کے بعد بلا فاصلہ اور بغیر ظہور دوسرے واقعات مندرجہ آیت طذا موت پیش آجائے گی اور یہی خرابی دوسری جگہوں میں ہے جیسا کہ ہم لکھ چکے ہیں اور اگر بلا وجہ قرآنی ترتیب کو الٹا نا پلٹانا اور اسی تصرف کے مناسب حال معنے کر لینا جائز ہے تو اس سے لازم آتا ہے کہ ایسے تغییر تبدیل کے ساتھ نماز بھی درست ہو یعنی نماز میں اس طرح پڑھنا جائز ہو۔يُعِيسَى إِلى رَافِعُكَ إِلَى ثُمَّ مُتَوَفِّيكَ حالانکہ ایسا تصرف مفسد نماز اور داخل تحریف قرآن ہے۔تریاق القلوب، روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۴۶۰ حاشیه در حاشیه ) وَالْمَرْفُوعُ مَن يُسقى كاسُ الوِصال اور مرفوع وہ ہے جس کو اس محبوب کے ہاتھ سے جام مِنْ أَيْدِى الْمَحْبُوبِ الَّذِي هُوَ مُجَةُ وصال پلایا جاتا ہے جوحسن و جمال کا دریا ہے اور ربوبیت الْجَمَالِ وَيُدْخَلُ تَحْتَ رِدَاءِ الرُّبُوبِيَّةِ کی چادر کے نیچے داخل کیا جاتا ہے باوجود اس بات کے کہ مَعَ الْعُبُودِيَّةِ الْأَبَدِيَّةِ وَهذَا أَخِرُ مَقَامِ عبودیت ابدی طور پر رہتی ہے اور یہ وہ آخری مقام ہے جس يَبْلُغُهُ طَالِبُ الْحَقِّ فِي النَّشْأَةِ الْإِنْسَانِيَّةِ - تک ایک حق کا طالب انسانی پیدائش میں پہنچ سکتا ہے۔(خطبہ الہامیہ، روحانی خزائن جلد ۱۶ صفحه ۴۲،۴۱) ( ترجمہ اصل کتاب سے )