تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 123
تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام ۱۲۳ سورة ال عمران قرآن شریف میں حضرت مسیح کے بارے میں صاف لفظوں میں یہ پیشگوئی موجود تھی کہ: يُعِیسَی اِنِّی مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَى یعنی اے عیسی ! میں تجھے وفات دینے والا ہوں اور وفات کے بعد اپنی طرف اُٹھانے والا لیکن ہمارے مخالفوں نے اس نص کے ظاہر الفاظ پر عمل نہیں کیا اور نہایت مکروہ اور پر تکلف تاویل سے کام لیا یعنی رَافِعُكَ کے فقرہ کو مُتَوَفِّيكَ کے فقرہ پر مقدم کیا اور ایک صریح تحریف کو اختیار کر لیا اور یا بعض نے توفی کے لفظ کے معنے بھر لینا کیا جو نہ قرآن سے نہ حدیث سے نہ علم لغت سے ثابت ہوتا ہے اور جسم کے ساتھ اٹھائے جانا اپنی طرف سے ملا لیا اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مُتَوَفِّيكَ کے معنے صریح مميتك بخاری میں موجود ہیں۔اُن سے منہ پھیر لیا اور علم نحو میں صریح یہ قاعدہ مانا گیا ہے کہ توفی کے لفظ میں جہاں خدا فاعل اور انسان مفعول یہ ہو ہمیشہ اُس جگہ توئی کے معنے مارنے اور رُوح قبض کرنے کے آتے ہیں مگر ان لوگوں نے اس قاعدہ کی کچھ بھی پروا نہیں رکھی اور خدا کی تمام کتابوں میں کسی جگہ رفع الی اللہ کے معنے یہ نہیں کئے گئے کہ کوئی جسم کے ساتھ خدا تعالی کی طرف اُٹھایا جائے لیکن ان لوگوں نے زبردستی سے بغیر وجود کسی نظیر کے رفع الی اللہ کے اس جگہ یہ معنے کئے کہ جسم کے ساتھ اٹھایا گیا۔ایسا ہی توفی کے اُلٹے معنے کرنے کے وقت کوئی نظیر پیش نہ کی اور بھر لینا معنے لے لئے۔اب بتلاؤ کہ کس نے نصوص کے ظاہر پر عمل کرنا چھوڑ دیا ؟ (تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۱۶۲) کوئی فولادی قلعہ بھی ایسا پختہ نہیں ہو سکتا جیسا کہ قرآن شریف میں حضرت مسیح کی موت کی آیت ہے پھر آسمان سے زندہ مع جسم اُترنے کی پیشگوئی کس قدر موت کی پیشگوئی کی نقیض ہے۔ذرہ سوچ لو اور قرآن نے توفی اور رفع کے لفظ کو کئی جگہ ایک ہی معنوں موت اور رفع روحانی کے محل پر ذکر کر کے صاف سمجھا دیا ہے کہ توفی کے معنے مارنا اور رفع الی اللہ کے معنے رُوح کو خدا کی طرف اٹھانا ہے اور پھر توفی کے لفظ کے معنے حدیث کے رُو سے بھی خوب صاف ہو گئے ہیں کیونکہ بخاری میں ابن عباس سے روایت ہے کہ مُتَوَفِّيكَ مُبيتك يعنی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے لفظ متوفی کے یہی معنے گئے ہیں کہ میں تجھے مارنے والا ہوں اور اس بات پر صحابہ کا اجماع بھی ہو چکا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو گئے اور گزشتہ روحوں میں جاملے۔(تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۱۶۳، ۱۶۴) فقره وَ رَافِعُكَ اِلَى اور بَلْ رَفَعَهُ اللهُ الله کے یہ معنے کیوں کئے جاتے ہیں کہ حضرت مسیح آسمان کی طرف اٹھائے گئے؟ ان لفظوں کے تو یہ معنے نہیں اور اگر کسی حدیث نے یہ تشریح کی ہے تو وہ حدیث تو پیش