تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 121
تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام ۱۲۱ سورة ال عمران مبيتك یعنی حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ مُتَوَفِّيكَ کے یہ معنے ہیں کہ میں تجھے وفات دوں گا۔علاوہ اس کے جو شخص تمام احادیث اور قرآن شریف کا تتبع کرے گا اور تمام لغت کی کتابوں اور ادب کی کتابوں کو غور سے دیکھے گا اس پر یہ بات مخفی نہیں رہے گی کہ یہ قدیم محاورہ لسان عرب ہے کہ جب خدا تعالیٰ فاعل ہوتا ہے اور انسان مفعول یہ ہوتا ہے تو ایسے موقعہ پر لفظ توفی کے معنے بجز وفات کے اور کچھ نہیں ہوتے اور اگر کوئی شخص اس سے انکار کرے تو اُس پر واجب ہے کہ ہمیں حدیث یا قرآن یا فن ادب کی کسی کتاب سے یہ دکھلاوے کہ ایسی صورت میں کوئی اور معنے بھی توفی کے آجاتے ہیں۔اور اگر ایسا ثبوت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ قدسیہ سے پیش کر سکے تو ہم بلا توقف اُس کو پانسو س ر وپے انعام دینے کو طیار ہیں۔دیکھو! حق کے اظہار کے لئے ہم کس قدر مال خرچ کرنا چاہتے ہیں پھر کیا وجہ ہے کہ ہمارے سوالات کا کوئی جواب نہیں دیتا؟ اگر سچائی پر ہوتے تو اس سوال کا ضرور جواب دیتے اور نقد روپیہ پاتے۔غرض جب فیصلہ ہو گیا کہ توفی کے معنے موت ہیں یہی معنے حضرت ابن عباس کی حدیث سے معلوم ہوئے اور ابن عباس کا قول جو صحیح بخاری میں مندرج ہے، وہ قول ہے جس کو عینی شارح بخاری نے اپنی شرح میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک مرفوع کیا ہے اور یہی معنے محاورات قرآن اور محاورات احادیث میں سے اور نیز کلام بلغاء عرب کے تتبع سے ثابت ہوئے اور اس کے سوا کچھ ثابت نہ ہوا تو پھر ماننا پڑا کہ یہ وعدہ جو اس آیت شریفہ میں مندرج ہے یہ حضرت مسیح کی موت طبعی کا وعدہ ہے اور اس میں حضرت مسیح کو یہ بشارت دی گئی ہے کہ وہ یہودی کہ جو اس فکر میں تھے کہ آنجناب کو بذریعہ صلیب قتل کر دیں وہ قتل نہیں کرسکیں گے اور اس خوف سے اللہ تعالیٰ نے مسیح کو تسلی بخشی اور ایک لمبی عمر جو انسان کے لئے قانونِ قدرت میں داخل ہے اس کا وعدہ دیا اور یہ فرمایا کہ تو اپنی طبعی موت سے فوت ہوگا۔اب اس فیصلہ کے بعد دوسرا تنقیح طلب امر یہ ہے کہ آیا یہ وعدہ پورا ہو چکا یا ابھی حضرت مسیح زندہ ہیں سو یہ تنقیح بھی نہایت صفائی سے فیصلہ پاچکی ہے اور فیصلہ یہ ہے کہ اس آیت شریفہ کی ترتیب صاف طور پر دلالت کر رہی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو گئے ہیں کیونکہ اگر وہ اب تک فوت نہیں ہوئے تو پھر اس سے لازم آتا ہے کہ رفع بھی نہیں ہوا۔اور نہ اب تک اُن کی تطہیر ہوئی اور نہ اب تک اُن کے دشمنوں کی ذلت ہوئی اور ظاہر ہے کہ ایسا خیال بدیہی البطلان ہے۔تریاق القلوب، روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۴۵۷ تا ۴۶۰ حاشیه ) آيت يُعِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ میں فقرہ مُتَوَفِّيكَ کو اس جگہ سے جہاں خدا تعالیٰ نے اس کو رکھا ہے اُٹھا