تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 104
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام الد سورة ال عمران کیا ہے اور اپنے حق میں ویسا ہی استعمال کیا ہے جیسا کہ وہ حضرت عیسیٰ کے حق میں مستعمل تھا تو کیا اس بات کو سمجھنے میں کچھ کسر رہ گئی کہ جیسا کہ آنحضرت صلعم وفات پاگئے ویسا ہی حضرت مسیح ابن مریم بھی وفات پاگئے۔ یہ تو ظاہر ہے کہ قرآن کریم کی آیات اور مفہوم آیات میں کسی طور سے تحریف جائز نہیں اور جو کچھ اصل منشاء اور اصل مفہوم اور اصل مراد ہر ایک لفظ کی ہے اس سے عمداً اس کو اور معنوں کی طرف پھیر دینا ایک الحاد ہے جس کے ارتکاب کا کوئی نبی یا غیر نبی مجاز نہیں ہے اس لئے کیوں کر ہو سکتا ہے کہ نبی معصوم بجز حالت تطابق کلی کے جو فی الواقع مسیح کی وفات سے اس کی وفات کو تھی لفظ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِی کو اپنے حق میں استعمال کر سکتا اور نعوذ باللہ تحریف کا مرتکب ہوتا بلکہ ہمارے سید و مولی صلی اللہ علیہ وسلم امام المعصومین وسید المحفوظین نے ( رُوحِي فِدَاءٌ سَبِيلَهُ ) لفظ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي کا نہایت دیانت و امانت کے ساتھ انہیں مقررہ معینہ معنوں کے ساتھ اپنے حق میں استعمال کیا ہے کہ جیسا کہ وہ بعینہ حضرت عیسی کے حق میں وارد ہے۔ اب بھائیو! اگر حضرت سید و مولانا بجسده العنصری آسمان کی طرف اٹھائے گئے ہیں اور فوت نہیں ہوئے اور مدینہ میں ان کا مزار مطہر نہیں تو گواہ رہو کہ میں ایمان لاتا ہوں کہ ایسا ہی حضرت عیسی بھی آسمان کی طرف بجسده العنصری اٹھائے گئے ہوں گے اور اگر ہمارے سید و مولی وسید الکل ختم المرسلین افضل الاولین و الآخرين اول المحبوبين والمقربین در حقیقت فوت ہو چکے ہیں تو آؤ ! خدا تعالیٰ سے ڈرو اور فلما توفیتنی کے پیارے لفظوں پر غور کرو جو ہمارے سید و مولی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے میں اور اس عبد صالح میں مشترک بیان کئے ، جس کا نام مسیح ابن مریم ہے۔ بخاری اس مقام میں سورۂ آل عمران کی یہ آیت انی مُتَوَفِّيكَ کیوں لایا ؟ اور کیوں ابن عباس سے روایت کی کہ مُتَوَفِّيكَ : مميتك ؟ اس کی وجہ بخاری کے صفحہ ۶۶۵ میں شارح بخاری نے دیکھی ہے : هَذِهِ الْآيَةُ مُتَوَفِّيكَ مِنْ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ ذَكَرَهُهُنَا لِمُنَاسَبَةِ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِی یعنی یہ آیت اِنِّي مُتَوَفِّيكَ سورت آل عمران میں ہے اور بخاری نے جو اس جگہ اس آیت کے ابن عباس سے یہ معنے کئے کہ مُتَوَفِّيكَ : هُميتك تو اس کا یہ سبب ہے کہ بخاری نے فلما تَوَفَّيْتَنِی کے معنی کھولنے کیلئے بوجہ مناسبت یہ فقرہ لکھ دیا ورنہ آل عمران کی آیت کو اس جگہ ذکر کرنے کا کوئی محل نہ تھا۔ اب دیکھئے ! شارح نے بھی اس بات کو قبول کر لیا ہے کہ امام بخاری اِنِّي مُتَوَفِّيكَ : میٹک کے لفظ کو شہادت کے طور پر بہ تقریب تفسیر آیت فَلَمَّا تَوَفَيْتَنِي (المائدۃ:۱۱۸) لایا ہے اور کتاب التفسیر میں جو بخاری نے ان دونوں متفرق آیتوں کو جمع کر کے لکھا ہے تو بجز اس کے اس کا اور کیا مدعا تھا