تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 96 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 96

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۹۶ سورة ال عمران عموم محاوره قرآن شریف کا توفی کے لفظ کے استعمال میں یہی واقعہ ہوا ہے کہ وہ تمام مقامات میں اوّل سے آخر تک ہر ایک جگہ جو ٹوٹی کا لفظ آیا ہے اس کو موت اور قبض روح کے معنے میں لاتا ہے اور جب عرب کے قدیم وجدید اشعار وقصائد و نظم و نثر کا جہاں تک ممکن تھا تمنع کیا گیا اور عمیق تحقیقات سے دیکھا گیا تو یہ ثابت ہوا کہ جہاں جہاں توفی کے لفظ کا ذوی الروح سے یعنی انسانوں سے علاقہ ہے اور فاعل اللہ جل شانہ کو ظہرایا گیا ہے ان تمام مقامات میں توفی کے معنے موت وقبض روح کے کئے گئے ہیں۔اور اشعار قدیمہ وجدیدہ عرب میں اور ایسا ہی اُن کی نثر میں بھی ایک بھی لفظ توفی کا ایسا نہیں ملے گا جو ذوی الروح میں مستعمل ہو اور جس کا فاعل لفظاً یا معنا خدائے تعالیٰ ٹھہرایا گیا ہو یعنی فعل عبد کا قرار نہ دیا گیا ہو اور محض خدائے تعالیٰ کا فعل سمجھا گیا ہو اور پھر اس کے معنے بجر قبض روح کے اور مرادر کھے گئے ہوں۔لغات کی کتابوں قاموس ،صحاح، صراح وغیرہ پر نظر ڈالنے والے بھی اس بات کو جانتے ہیں کہ ضرب المثل کے طور پر بھی کوئی فقرہ عرب کے محاورات کا ایسا نہیں ملا جس میں توفی کے لفظ کو خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کر کے اور ذوی الروح کے بارہ میں استعمال میں لا کر پھر اس کے اور بھی معنے کئے ہوں۔بلکہ برابر ہر جگہ یہی معنے موت اور قبض روح کے کئے گئے ہیں اور کسی دوسرے احتمال کا ایک ذرہ راہ گھلا نہیں رکھا۔پھر بعد اس کے اس عاجز نے حدیثوں کی طرف رجوع کیا تا معلوم ہو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں صحابہ اور خود آنحضرت صلعم اس لفظ توفی کو ذوی الروح کی طرف منسوب کر سکے کن کن معنوں میں استعمال کرتے تھے۔آیا یہ لفظ اس وقت اُن کے روز مرہ محاورات میں کئی معنوں پر استعمال ہوتا تھا یا صرف ایک ہی معنے قبض روح اور موت کے لئے مستعمل تھا؟ سو اس تحقیقات کے لئے مجھے بڑی محنت کرنی پڑی اور ان تمام کتابوں صحیح بخاری، صحیح مسلم، ترمذی، ابن ماجہ، ابوداؤد، نسائی، دارمی، موطا، شرح السنہ وغیرہ وغیرہ کا صفحہ صفحہ دیکھنے سے معلوم ہوا کہ ان تمام کتابوں میں جو داخل مشکوۃ ہیں تین سو چھیالیس مرتبہ مختلف مقامات میں توفی کا لفظ آیا ہے اور ممکن ہے کہ میرے شمار کرنے میں بعض تولی کے لفظ رہ بھی گئے ہوں لیکن پڑھنے اور زیر نظر آ جانے سے ایک بھی لفظ باہر نہیں رہا۔اور جس قدر وہ الفاظ توفی کے ان کتابوں میں آئے ہیں۔خواہ وہ ایسا لفظ ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے نکلا ہے یا ایسا ہے جو کسی صحابی نے منہ سے نکالا ہے۔تمام جگہ وہ الفاظ موت اور قبض روح کے معنے میں ہی آئے ہیں۔اور چونکہ میں نے ان کتابوں کو بڑی کوشش اور جانکاہی سے سطر سطر پر نظر ڈال کر دیکھ لیا ہے۔اس لئے میں دعوئی سے اور شرط