تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 97 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 97

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۹۷ سورة ال عمران کے ساتھ کہتا ہوں کہ ہر یک جگہ جو توفی کا لفظ ان کتابوں کی احادیث میں آیا ہے اس کے بجز موت اور قبض روح کے اور کوئی معنے نہیں۔اور ان کتابوں سے بطور استقراء کے ثابت ہوتا ہے کہ بعد بعثت اخیر عمر تک جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم زندہ رہے کبھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے توفی کا لفظ بغیر معنی موت اور قبض روح کے کسی دوسرے معنی کے لئے ہر گز استعمال نہیں کیا اور نہ بھی دوسرے معنی کا لفظ زبان مبارک پر جاری ہوا۔اور کچھ شک نہیں کہ استقراء بھی ادلہ یقینیہ میں سے ہے۔بلکہ جس قدر حقائق کے ثابت کرنے کے لئے استقراء سے مدد ملی ہے اور کسی طریق سے مدد نہیں ملی۔مثلاً ہمارے ان یقینیات کی بناء جو عموما تمام انسانوں کی ایک زبان ہوتی ہے اور دو آنکھ اور عمر انسان کی عموما اس حد سے تجاوز نہیں کر سکتی۔اور اناج کی قسموں میں سے چنا اس انداز کا ہوتا ہے اور گیہوں کا دانہ اس انداز کا، یہ سب یقینیات، استقراء سے معلوم ہوئے ہیں۔پس جو شخص اس استقراء کا انکار کرے تو ایسا کوئی لفظ توفی کا پیش کرنا اس کے ذمہ ہو گا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے نکلا ہو اور بجز موت اور قبض روح کے اس کے کوئی اور معنے ہوں اور امام محمد اسماعیل بخاری نے اس جگہ اپنی سیح میں ایک لطیف نکتہ کی طرف توجہ دلائی ہے جس سے معلوم ہوا کہ کم سے کم سات ہزار مرتبہ توفی کا لفظ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے بعثت کے بعد اخیر عمر تک نکلا ہے۔اور ہر ایک لفظ توفی کے معنے قبض روح اور موت تھی۔سو یہ نکتہ بخاری کا منجملہ اُن نکات کے ہے جن سے حق کے طالبوں کو امام بخاری کا مشکور وممنون ہونا چاہیئے۔(ازالہ اوہام ، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۵۸۳ تا ۵۸۵) وآ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہے کہ یہ جو آیت قرآن کریم ہے کہ يُعِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ اس کے یہ جیسی معنے ہیں کہ اے عیسی میں تجھے وفات دوں گا۔سو امام بخاری صاحب، ابن عباس کا قول بطور تائید کے لائے ہیں تا معلوم ہو کہ صحابہ کا بھی یہی مذہب تھا کہ مسیح ابن مریم فوت ہو گیا ہے۔اور پھر امام بخاری نے ایک اور کمال کیا ہے کہ اپنی صحیح کے صفحہ ۵۳۱ میں مناقب ابن عباس میں لکھا ہے کہ خود ابن عباس سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کو اپنے سینہ سے لگایا اور دعا کی کہ یا الہی ! اس کو حکمت بخش ، اس کو علم قرآن بخش۔چونکہ دُعا نبی کریم کی مستجاب ہے اس لئے ابن عباس کا یہ بیان کہ توفی عیسی جو قرآن کریم میں آیا ہے امانت عیسی اس سے مراد ہے یعنی عیسی کی وفات دینا۔یہ معنی آیت کریمہ کے لے سہو کتابت ہے صحیح "کو" ہے۔ناشر لو