تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 92 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 92

تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام ۹۲ سورة ال عمران قرآن شریف کی نصوص بینہ اسی بات پر بصراحت دلالت کر رہی ہیں کہ مسیح اپنے اُسی زمانہ میں فوت ہو گیا ہے جس زمانہ میں وہ بنی اسرائیل کے مفسد فرقوں کی اصلاح کے لئے آیا تھا جیسا کہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے : يُعِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَ رَافِعُكَ إِلَى وَمُطَهَّرُكَ مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوا إِلى يَوْمِ الْقِيمَةِ اب اس جگہ ظاہر ہے کہ خدائے تعالیٰ نے اِنِّي مُتَوَفِّيكَ پہلے لکھا ہے اور را فعل بعد اس کے بیان فرمایا ہے جس سے ثابت ہوا کہ وفات پہلے ہوئی اور رفع بعد از وفات ہوا۔اور پھر اور ثبوت یہ ہے کہ اس پیشگوئی میں اللہ جل شانہ فرماتا ہے کہ میں تیری وفات کے بعد تیرے متبعین کو تیرے مخالفوں پر جو یہودی ہیں قیامت کے دن تک غالب رکھوں گا۔اب ظاہر ہے اور تمام عیسائی اور مسلمان اس بات کو قبول کرتے ہیں کہ یہ پیشگوئی حضرت مسیح کے بعد اسلام کے ظہور تک بخوبی پوری ہو گئی کیونکہ خدائے تعالیٰ نے یہودیوں کو ان لوگوں کی رعیت اور ماتحت کردیا جو عیسائی یا مسلمان ہیں اور آج تک صد ہا برسوں سے وہ ماتحت چلے آتے ہیں، یہ تو نہیں کہ حضرت مسیح کے نزول کے بعد پھر ماتحت ہوں گے۔ایسے معنے تو بہ ہداہت فاسد ہیں۔(ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۳۳۱،۳۳۰) بعض چالاکی سے قرآن شریف کے کھلے کھلے ثبوت پر پردہ ڈالنا چاہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ توفی کا لفظ لغت کی کتابوں میں کئی معنوں پر آیا ہے حالانکہ اپنے دلوں میں خوب جانتے ہیں کہ جن لفظوں کو قرآن شریف اصطلاحی طور پر بعض معانی کے لئے خاص کر لیتا ہے اور اپنے متواتر بیان سے بخوبی سمجھا دیتا ہے کہ فلاں معنے کے لئے اُس نے فلاں لفظ خاص کر رکھا ہے اس معنی سے اس لفظ کو صرف اس خیال سے پھیرنا کہ کسی لغت کی کتاب میں اس کے اور معنے بھی آئے ہیں، صریح الحاد ہے۔مثلا کتب لغت میں اندھیری رات کا نام بھی کافر ہے مگر تمام قرآن شریف میں کافر کا لفظ صرف کافردین یا کا فرنعمت پر بولا گیا ہے۔اب اگر کوئی شخص کفر کا لفظ الفاظ مروجہ فرقان سے پھیر کر اندھیری رات اس سے مراد لے اور یہ ثبوت دے کہ لغت کی کتابوں میں یہ معنے بھی لکھے ہیں تو سچ کہو کہ اُس کا یہ ملحدانہ طریق ہے یا نہیں ؟ اسی طرح کتب لغت میں صوم کا لفظ صرف روزہ میں محدود نہیں بلکہ عیسائیوں کے گرجا کا نام بھی صوم ہے اور شتر مرغ کے سرگین کو بھی صوم کہتے ہیں لیکن قرآن شریف کی اصطلاح میں صوم صرف روزہ کا نام ہے۔اور اسی طرح صلوۃ کے لفظ کے معنے بھی لغت میں کئی ہیں مگر قرآن شریف کی اصطلاح میں صرف نماز اور درود اور دعا کا نام ہے۔یہ بات سمجھنے والے جانتے ہیں کہ ہر ایک فن ایک اصطلاح کا محتاج ہوتا ہے اور اہل اس فن کے