تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 91 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 91

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام : ۹۱ سورة ال عمران پاک روش خدائے تعالیٰ کے پیارے کو منتی ٹھہرایا جاوے تو حیف ہے ایسی نجات پر ! اس سے تو ہزار درجہ ! دوزخ بہتر ہے۔غرض جب مسیح کے لئے دونوں فریق یہود و نصاری نے ایسے ڈور از ادب القاب روار کھے تو خدائے تعالیٰ کی غیرت نے نہ چاہا کہ اس پاک روش کی عزت کو بغیر شہادت کے چھوڑ دیوے۔سواس نے جیسا کہ انجیل میں پہلے سے وعدہ دیا گیا تھا ہمارے سید و مولی ختم المرسلین کو مبعوث فرما کر مسیح کی عزت اور رفع کی قرآن کریم میں شہادت دی۔رفع کا لفظ قرآن کریم میں کئی جگہ واقع ہے ایک جگہ بلغم کے قصہ میں بھی ہے کہ ہم نے اس کا رفع چاہا مگر وہ زمین کی طرف جھک گیا۔اور ایک ناکام نبی کی نسبت اس نے فرمایا وَ رَفَعْنَهُ مَكَانًا عَلِيًّا ( مریم : ۵۸) در حقیقت یہ بھی ایک ایسا نبی ہے جس کی رفعت سے لوگوں نے انکار کیا تھا اور چونکہ اس عاجز کی بھی مسیح کی طرح ذلّت کی گئی ہے کوئی کافر کہتا ہے اور کوئی ملحد اور کوئی ہے ایمان نام رکھتا ہے اور فقیہ اور مولوی صلیب دینے کو بھی تیار ہیں جیسا کہ میاں عبد الحق اپنے اشتہار میں لکھتے ہیں کہ اس شخص کے لئے مسلمانوں کو کچھ ہاتھ سے بھی کام لینا چاہیئے۔لیکن پلا طوس سے زیادہ یہ گورنمنٹ بے گناہ کی رعایت رکھتی ہے اور پلاطوس کی طرح رعیت کے رعب میں نہیں آتی مگر ہماری اس قوم نے ذلیل کرنے کے لئے کوئی دقیقہ باقی نہیں رکھا تا دونوں طرف سے مشابہت ثابت کر کے دکھا دیوے۔انہیں الہام بھی ہو گئے کہ یہ جہنمی ہے، آخر جہنم میں پڑے گا اور اُن میں داخل نہیں ہو گا جن کا عزت کے ساتھ خدائے تعالی کی طرف رفع ہوتا ہے۔سو آج میں اُس الہام کے معنی سمجھا جو اس سے کئی سال پہلے براہین میں درج ہو چکا ہے اور وہ یہ ہے يُعِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَ رَافِعُكَ إِلَى وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلى يَوْمِ الْقِيمَةِ - یعنی یہ مولوی صاحبان عبد الرحمان و عبد الحق تو مجھے اس وقت قطعی دوزخی بناتے ہیں لیکن اُن کے اس بیان سے دس سال پہلے خدائے تعالیٰ مجھے جنتی ہونے کا وعدہ دے چکا ہے اور جس طرح یہودیوں نے خیال کیا تھا کہ نعوذ باللہ عیسی مسیح لعنتی ہے اور ہر گز عزت کے ساتھ اس کا رفع نہیں ہوگا اور اُن کے رد میں یہ آیت نازل ہوئی تھی : إني مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إلى۔اس طرح خدائے تعالیٰ نے اس جگہ بھی پہلے سے ہی اپنے علم قدیم کی وجہ سے یہ الہام بطور پیشگوئی اس عاجز کے دل پر القا کیا۔۔۔۔۔۔حاصل کلام یہ ہے کہ جو رفع کا لفظ حضرت مسیح کے لئے قرآن کریم میں آیا ہے وہی لفظ الہام کے طور پر اس عاجز کے لئے بھی خدائے تعالیٰ نے فرمایا ہے۔(ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۲۹۹ تا ۳۰۲)