تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 79
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۷۹ سورة البقرة اُس کی موت میں۔قرآن شریف میں لکھا ہے کہ مومن اور غیر مومن میں ہمیشہ فرق رکھ دیا جاتا ہے۔غلام کو چاہئے کہ ہر وقت رضا ء الہی کو ماننے اور ہر ایک رضا کے سامنے سرتسلیم خم کرنے میں دریغ نہ کرے۔کون ہے جو عبودیت سے انکار کر کے خدا کوا اپنا محکوم بنانا چاہتا ہے؟ الحکم جلدے نمبر ۲۴ مورخہ ۳۰رمجون ۱۹۰۳ ء صفحه ۱۱) لا في قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ فَزَادَهُمُ اللهُ مَرَضًا وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِيمُ بِمَا كَانُوا يَكْذِبُونَ جب تک ایک مرض کے مواد مخفی ہیں تب تک اس مرض کا کچھ علاج نہیں ہو سکتا لیکن مواد کے ظہور اور بروز کے وقت ہر یک طور کی تدبیر ہو سکتی ہے۔انبیاء نے جو سخت الفاظ استعمال کئے حقیقت میں ان کا مطلب تحریک ہی تھا تا خلق اللہ میں ایک جوش پیدا ہو جائے اور خواب غفلت سے اس ٹھوکر کے ساتھ بیدار ہو جائیں اور دین کی طرف خوض اور فکر کی نگاہیں دوڑانا شروع کر دیں اور اس راہ میں حرکت کریں گو وہ مخالفانہ حرکت ہی سہی اور اپنے دلوں کا اہل حق کے دلوں کے ساتھ ایک تعلق پیدا کر لیں گو وہ عدوانہ تعلق ہی کیوں نہ ہو۔اسی کی طرف اللہ جل هائه اشارہ فرماتا ہے : فِي قُلُوبِهِمْ فَرَضٌ فَزَادَهُمُ اللهُ مَرَضًا - : لا یقینا سمجھنا چاہیئے کہ دین اسلام کو بچے دل سے ایک دن وہی لوگ قبول کریں گے جو باعث سخت اور پر زور جگانے والی تحریکوں کے کتب دینیہ کی ورق گردانی میں لگ گئے ہیں اور جوش کے ساتھ اس راہ کی طرف قدم اُٹھا ر ہے ہیں گو وہ قدم مخالفانہ ہی سہی۔(ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۱۱۸) ایک نہایت لطیف نکتہ جو سورۃ القدر کے معانی پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے یہ ہے کہ خدائے تعالیٰ نے اس سورۃ میں صاف اور صریح لفظوں میں فرما دیا ہے کہ جس وقت کوئی آسمانی مصلح زمین پر آتا ہے تو اس کے ساتھ فرشتے آسمان سے اتر کر مستعد لوگوں کو حق کی طرف کھینچتے ہیں۔پس ان آیات کے مفہوم سے یہ جدید فائدہ حاصل ہوتا ہے کہ اگر سخت ضلالت اور غفلت کے زمانہ میں یک دفعہ ایک خارق عادت طور پر انسانوں کے قومی میں خود بخود مذہب کی تفتیش کی طرف حرکت پیدا ہونی شروع ہو جائے تو وہ اس بات کی علامت ہوگی کہ کوئی آسمانی مصلح پیدا ہو گیا ہے کیونکہ بغیر روح القدس کے نزول کے وہ حرکت پیدا ہو ناممکن نہیں اور وہ حرکت حسب استعداد و طبائع دو قسم کی ہوتی ہے؛ حرکت تامہ اور حرکت نا قصہ۔حرکت تلتہ وہ حرکت ہے جو روح میں صفائی اور سادگی بخش کر اور عقل اور فہم کو کافی طور پر تیز کر کے رو بحق کر دیتی ہے اور