تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 75
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۷۵ سورة البقرة در انتی اُسے وقتا فوقتا مصلحت سے کالتی جاتی ہے۔کبھی بچے مرتے ہیں جن کو کہتے ہیں کہ اٹھر اسے مرتے ہیں، صحیح البدن توانا وتندرست جوان بھی مرتے ہیں، عمر رسیدہ ہو کر پیر نا تواں بھی آخر اُٹھ جاتے ہیں۔غرض, سلسلہ قطع و برید کا دنیا میں ایسا جاری ہے جو ہر آن انسان کو سبق دیتا ہے کہ دنیا ہمیشہ رہنے کی جگہ نہیں۔پس یہ بھی ایک دلیل اُس زمانہ کی آمد پر ہے۔اس کے علاوہ ایک اور دلیل خدا تعالیٰ نے اس زمانہ کی حقیقت کو سمجھانے کے لئے پیش کی ہے اور وہ انبیاء علیہم السلام کے قبری معجزات ہیں جن سے ایک ایک وقت دنیا کے تختہ الٹ گئے اور خلقت کا نام ونشان تک قریباً مٹ گیا ہے۔انسان خدا تعالیٰ کے قہر کے ہاتھ میں ہے جب چاہے وہ نابود کر دے۔پھر اس کو اور دلیل کے رنگ میں پیش کیا ہے۔کہ بعض امراض اس ہیبت اور شدت سے پھیلتی ہیں کہ جنہوں نے اُن کا دورہ دیکھا ہو گا وہ کہہ سکتے ہیں کہ قیامت ہی کا نمونہ ہوتا ہے۔(رسالہ الانذار صفحه ۵۴ تا ۵۶ایڈیشن اوّل) طالب نجات وہ ہے جو خاتم النبیین پیغمبر آخرالزمان پر جو کچھ اتارا گیا ہے۔اس پر ایمان لاوے اور اس پیغمبر سے پہلے جو کتابیں اور صحیفے سابقہ انبیاء اور رسولوں پر نازل ہوئے اُن کو بھی مانے۔وَ بِالْآخِرَةِ هُمْ يوقنون اور طالب نجات وہ ہے جو پچھلی آنے والی گھڑی یعنی قیامت پر یقین رکھے اور جزا وسز اما نتا ہو۔(الحکم جلد ۸ نمبر ۳۴، ۳۵ مورخه ۱۰ تا ۱۷ /اکتوبر ۱۹۰۴ صفحه ۹) آج میرے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ قرآن شریف کی وحی اور اس سے پہلی وحی پر ایمان لانے کا ذکر تو قرآن شریف میں موجود ہے۔ہماری وحی پر ایمان لانے کا ذکر کیوں نہیں۔اسی امر پر توجہ کر رہا تھا خدا تعالیٰ کی طرف سے بطور القاء کے یکا یک میرے دل میں یہ بات ڈالی گئی کہ آیہ کریمہ وَالَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِمَا انْزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنْزِلَ مِن قَبْلِكَ وَبِالْآخِرَةِ هُمْ يُوقِنُون میں تینوں وحیوں کا ذکر ہے۔مَا اُنْزِلَ إليك سے قرآن شریف کی وحی اور مَا أُنْزِلَ مِن قَبْلِكَ سے انبیاء سابقین کی وحی اور آخرۃ سے مراد مسیح موعود کی وحی ہے۔اخرۃ کے معنے ہیں پیچھے آنے والی۔وہ پیچھے آنے والی چیز کیا ہے۔سیاق کلام سے ظاہر ہے کہ یہاں پیچھے آنے والی چیز سے مراد وہ وحی ہے جو قرآن کریم کے بعد نازل ہوگی کیونکہ اس سے پہلے وجیوں کا ذکر ہے۔ایک وہ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی ، دوسری وہ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے قبل نازل ہوئی اور تیسری وہ جو آپ کے بعد آنے والی تھی۔ریویو آف ریلیجنز جلد ۱۴ نمبر ۴ بابت ماه مارچ واپریل ۱۹۱۵ ء صفحه ۱۶۴ حاشیه )