تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 74 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 74

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۷۴ سورة البقرة کے ساتھ کوئی نہ ہوگا، وہ زمانہ بڑا خوفناک زمانہ ہے۔چونکہ اُس پر ایمان لانا ہر مومن اور مسلمان کا کام ہے، جو اُس پر ایمان نہیں لاتا وہ مسلمان نہیں کا فر ہے اور بے ایمان ہے۔جس طرح سے بہشت ، دوزخ، انبیاء علیہم السلام اور کتابوں پر ایمان لانے کا حکم ہے ویسا ہی اُس ساعت پر ایمان لانا لازم ہے۔جب نفخ طور ہو کر سب نیست و نابود ہو جاویں گے۔یہ سنت اللہ اور عادت اللہ ہے اللہ تعالیٰ نے اس زمانہ کے سمجھانے کے لئے تین طریق اختیار فرمائے ہیں؛ ایک یہ کہ انسان کو عقل دی ہے کہ اگر وہ اُس سے ذرا بھی کام لے اور غور کرے تو یہ امر نہایت صفائی سے ذہن میں آسکتا ہے کہ انسان کی مختصری زندگی دو عد موں کے درمیان واقع ہے اور کبھی بھی باقی نہیں رہ سکتی۔قیاس سے مجہولات کا پتہ لگ سکتا ہے۔انسان معلوم کر سکتا ہے۔مثلاً اگر ہم غور کریں کہ ہمارے باپ دادے کہاں ہیں؟ اس پر غور کریں اور سوچیں تو مان لینا پڑے گا کہ سب کو اسی راستہ پر چلنا ہوگا۔نادان ہے وہ انسان جس کے سامنے ہزار ہا نمونے ہوں اور وہ اُن سے سبق نہ لے عقل نہ سیکھے۔عموماً دیکھا گیا ہے اور یہ ایک مانی ہوئی بات ہے کہ ہر گاؤں اور شہر میں زندوں سے قبریں زیادہ ہوتی ہیں۔بعض مخفی اور بعض ظاہر ہوتی ہیں۔بسا اوقات دیکھا گیا ہے کہ جب شہر میں کوئی کنواں کھودتے ہیں۔تو اُس میں سے ہڈیاں نکلتی ہیں۔عموما قبریں ہی قبریں ہر جگہ موجود ہیں۔یہ ایک دوسری بات ہے کہ وہ نمودار نہ ہوں۔اس سے نابود شدہ طبقہ انسان کا پتہ لگتا ہے۔دوسری ایک یہ دلیل عقلی اُس زمانہ کے وجود پر موجود ہے کہ جس طرح پر کھیت میں سبزہ نکلتا ہے۔خوش نما معلوم ہوتا ہے۔پھر ایک وقت آتا ہے کہ وہ رفتہ رفتہ زرد ہو کر خشک ہونے لگتا ہے اور پھر ایک حالت اُس پر آتی ہے کہ وہ گرنے لگتا ہے کہ اس وقت جب نقصان ہونے لگتا ہے تو بونے والا کسان اُس کو خود ہی کاٹ ڈالتا ہے تا کہ ایسا نہ ہو کہ اسی طرح پر اڑ اڑ ہی کر ضائع جاوے۔دنیا خدا تعالیٰ کا کھیت ہے۔جس طرح زمیندار مصلحت اور انجام بینی سے کبھی کچا ہی کاٹ لیتا ہے، کبھی ذرا پختہ ہوتا ہے تو کاتا ہے۔اسی طرح سے ہم بھی پرورش پا کر خداوندی مشیت اور ارادے کے موافق ٹھیک اپنے اپنے وقت پر کائے جاتے ہیں زمیندار کے فعل سے سبق اور عبرت حاصل کرنی چاہئے کہ انسان کی زندگی کا بھی ٹھیک یہی طرز ہے جیسے بعض دانے اُگنے بھی نہیں پاتے بلکہ زمین کے اندر ہی اندر ضائع ہو جاتے ہیں اُسی طرح بعض بچے شکم مادر ہی سے ضائع ہو جاتے ہیں اور بعض پیدا ہونے کے چند روز بعد مرتے ہیں۔غرض ٹھیک اسی قانون اور عمل کے موافق انسان بچہ، جوان اور بوڑھا ہوتا ہے اور خدا تعالیٰ کی مرضی کی