تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 42
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۲ سورة البقرة م۔ جیسے سو متقی کا کام یہی ہے کہ وہ ہمیشہ ایسے سرے طیار کرتا رہے جس سے اس کا روحانی نزول الماء دور ہو جاوے۔ اب اس سے ظاہر ہے کہ متقی شروع میں اندھا ہوتا ہے مختلف کوششوں اور تزکیوں سے وہ نور حاصل کرتا ہے۔ سو جب سوجا کھا ہو گیا اور صالح بن گیا پھر ایمان بالغیب نہ رہا اور تکلف بھی ختم ہو گیا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بِر أَي الْعَيْنِ اسی عالم میں بہشت و دوزخ وغیرہ سب کچھ مشاہدہ کرایا گیا جو متقی کو ایک ایمان بالغیب کے رنگ میں ماننا پڑتا ہے وہ تمام آپ کے مشاہدہ میں آ گیا۔ سو اس آیت میں اشارہ ہے کہ متقی اگر چہ اندھا ہے اور تکلف کی تکلیف میں ہے۔ لیکن صالح ایک دارالامان میں آ گیا ہے اور اُس کا نفس نفس مطمئنہ ہو گیا ہے۔ متقی اپنے اندر ایمان بالغیب کی کیفیت رکھتا ہے۔ وہ اندھا دھند طریق سے چلتا ہے اُس کو کچھ خبر نہیں۔ ہر ایک بات پر اُس کا ایمان بالغیب ہے۔ یہی اُس کا صدق ہے اور اس صدق کے مقابل خدا کا وعدہ ہے کہ وہ فلاح پائے گا أُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ - اس کے بعد متقی کی شان میں آیا ہے۔ وَيُقِيمُونَ الصَّلوةَ یعنی وہ نماز کو کھڑی کرتا ہے۔ یہاں لفظ کھڑی کرنے کا آیا ہے، یہ بھی اُس تکلف کی طرف اشارہ کرتا ہے جو متقی کا خاصہ ہے۔ یعنی جب وہ نماز شروع کرتا ہے تو طرح طرح کے وساوس کا اُسے مقابلہ ہے جن کے باعث اس کی نماز گو یا بار بار گرتی پڑتی ہے جس کو اُس نے کھڑا کرنا ہے۔ جب اُس نے اللہ اکبر کہا تو ایک ہجوم وساوس ہے جو اُس کے حضور قلب میں تفرق ڈال رہا رہا ہے۔ وہ ان سے کہیں کا کہیں پہنچ جاتا ہے، پریشان ہوتا ہے۔ ۔ ہر ہر چند چند حضور حضور و و ذوق کے لئے لڑتا مرتا ہے لیکن نماز جو گری پڑتی ہے بڑی جانکنی سے اُسے کھڑا کرنے کے فکر میں ہے۔ بار بار إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ إِيَّاكَ نَسْتَعِينُ کہہ کر نماز کے قائم کرنے کے لئے دُعا مانگتا ہے اور ایسے الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کی ہدایت چاہتا ہے جس سے اُس کی نماز کھڑی ہو جاوے۔ ان وساوس کے مقابل میں متقی ایک بچہ کی طرح ہے جو خدا کے آگے گڑ گڑاتا ہے روتا ہے اور کہتا ہے کہ میں اَخْلَدَ إِلَى الْأَرْضِ ہو رہا ہوں ۔سو یہی وہ جنگ ہے جو متقی کو نماز میں نفس کے ساتھ کرنا ہے اور اسی پر ثواب مترتب ہوگا۔ بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جو نماز میں وساوس کو فی الفور دور کرنا چاہتے ہیں حالانکہ وَيُقِيمُونَ الصَّلوةَ کی منشاء کچھ اور ہے۔ کیا خدا نہیں جانتا؟ حضرت شیخ عبد القادر گیلانی (رحمۃ اللہ علیہ ) کا قول ہے کہ ثواب اس وقت تک ہے جب تک مجاہدات ہیں اور جب مجاہدات ختم ہوئے تو ثواب ساقط ہو جاتا ہے۔ گویا صوم و صلوۃ اُس وقت تک اعمال ہیں جب تک ایک جدو جہد سے وساوس کا مقابلہ ہے لیکن جب اُن میں ایک