تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 43
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۳ سورة البقرة اعلیٰ درجہ پیدا ہو گیا اور صاحب صوم و صلوۃ تقویٰ کے تکلف سے بیچ کر صلاحیت سے رنگین ہو گیا تو اب صوم وصلوٰۃ اعمال نہیں رہے۔اس موقعہ پر انہوں نے سوال کیا ہے کہ کیا اب نماز معاف ہو جاتی ہے؟ کیونکہ ثواب تو اُس وقت تک تھا جس وقت تک تکلف کرنا پڑتا تھا۔سو بات یہ ہے کہ نماز اب عمل نہیں بلکہ ایک انعام ہے۔یہ نماز اُس کی ایک غذا ہے۔اُس کے لئے قرة العین ہے۔یہ گویا نقد بہشت ہے۔مقابل میں وہ لوگ جو مجاہدات میں ہیں وہ گشتی کر رہے ہیں اور یہ نجات پا چکا ہے۔سو اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کا سلوک جب ختم ہوا۔تو اُس کے مصائب بھی ختم ہو گئے۔مثلاً ایک مخنث اگر کہے کہ وہ کبھی کسی عورت کی طرف نظر اٹھا کر نہیں دیکھتا تو وہ کونسی نعمت یا ثواب کا مستحق ہے اس میں تو صفت بد نظری ہے ہی نہیں لیکن ایک مرد صاحب رجولیت اگر ایسا کرے تو ثواب پاوے گا۔اسی طرح انسان کو ہزاروں مقامات طے کرنے پڑتے ہیں۔بعض بعض امور میں اس کی مشاقی اُس کو قادر کر دیتی ہے۔نفس کے ساتھ اُس کی مصالحت ہوگئی۔اب وہ ایک بہشت میں ہے لیکن وہ پہلا سا ثواب نہیں رہے گا۔وہ ایک تجارت کر چکا ہے جس کا اب وہ نفع اٹھا رہا ہے لیکن پہلا رنگ نہ رہے گا۔انسان میں ایک فعل تکلف سے کرتے کرتے اُس میں طبعیت کا رنگ پیدا ہو جاتا ہے۔ایک شخص جو طبعی طور سے لذت پاتا ہے وہ اس قابل نہیں رہتا کہ اس کام سے ہٹایا جاوے۔وہ طبعاً یہاں سے ہٹ نہیں سکتا۔سو اتنا اور تقویٰ کی حد تک پورا انکشاف نہیں ہوتا وہ ایک قسم کا دعوئی ہے۔اس کے بعد متقی کی شان میں وَمِنَا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ آیا ہے۔یہاں متقی کے لئے مینا کا لفظ استعمال کیا۔کیونکہ اس وقت وہ ایک اٹلی کی حالت میں ہے اس لئے کہ جو کچھ خدا نے اُس کو دیا اس میں سے کچھ خدا کے نام کا دیا۔حق یہ ہے کہ اگر وہ آنکھ رکھتا تو دیکھ لیتا کہ اس کا کچھ بھی نہیں سب خدا کا ہی ہے۔یہ ایک حجاب تھا۔جو اتقا میں لازمی ہے۔اس حالت اتقا کے تقاضے نے متقی سے خدا کے دیئے میں سے کچھ دلوایا۔رسول اکرم نے حضرت عائشہ سے ایام وفات میں دریافت فرمایا کہ گھر میں کچھ ہے۔معلوم ہوا کہ ایک دینار تھا۔فرمایا کہ یہ سیرت یگانگت سے بعید ہے کہ ایک چیز بھی اپنے پاس رکھی جاوے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اتقا کے درجہ سے گزر کر صلاحیت تک پہنچ چکے تھے۔اس لئے مِمَّا اُن کی شان میں نہ آیا۔کیونکہ وہ اندھا ہے جس نے کچھ اپنے پاس رکھا اور کچھ خدا کو دیا لیکن یہ لازمہ متقی تھا کیونکہ خدا کے راہ (میں) دینے میں بھی اُسے نفس کے ساتھ جنگ تھا جس کا نتیجہ یہ تھا کہ کچھ دیا اور کچھ رکھا۔وہاں رسول اکرم نے سب خدا کو دیا اور اپنے لئے کچھ نہ رکھا۔