تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 41 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 41

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۱ سورة البقرة کھڑی کرتا ہے۔تقویٰ کی حالت میں دوزمانے متقی پر آتے ہیں۔ایک ابتلا کا زمانہ دوسرا اصطفا کا زمانہ۔ابتلا کا زمانہ اس لئے آتا ہے کہ تا تمہیں اپنی قدر ومنزلت اور قابلیت کا پتہ مل جائے اور یہ ظاہر ہو جائے کہ کون ہے جو اللہ تعالیٰ پر راستبازوں کی طرح ایمان لاتا ہے۔اس لئے بھی اس کو وہم اور شکوک آ کر پریشان دل کرتے ہیں کبھی کبھی خدا تعالیٰ ہی کی ذات پر اعتراض اور و ہم پیدا ہونے شروع ہو جاتے ہیں۔صادق مومن کو اس مقام پر ڈرنا اور گھبرانا نہ چاہئے بلکہ آگے ہی قدم رکھے کسی نے کہا ہے: عشق اول سرکش و خونی بود تا گریزد ہر کہ بیرونی بود شیطان پلید کا کام ہے کہ وہ راضی نہیں ہوتا جب تک کہ اللہ تعالی کی ذات سے منکر نہ کرالے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت سے روگردان نہ کر لے۔وہ وساوس پر وساوس ڈالتا رہتا ہے لاکھوں کروڑوں انسان انہیں وسوسوں میں مبتلا ہو کر ہلاک ہورہے ہیں اور کہتے ہیں کہ اب کر لیں پھر دیکھا جائے گا۔باوجود اس کے کہ انسان کو اس بات کا علم نہیں کہ ایک سانس کے بعد دوسرا سانس آئے گا بھی یا نہیں لیکن شیطان ایسا دلیر کرتا ہے کہ وہ بڑی بڑی جھوٹی امیدیں دیتا اور سبز باغ دکھاتا ہے۔شیطان کا یہ پہلا سبق ہوتا ہے مگر متقی بہادر ہوتا ہے اس کو ایک جرات دی جاتی ہے کہ وہ ہر وسوسہ کا مقابلہ کرتا ہے اس لئے یقیمُونَ الصلوة فرمایا یعنی اس درجہ میں وہ ہارتے اور تھکتے نہیں اور ابتداء میں اُنس اور ذوق اور شوق کا نہ ہونا اُن کو بے دل نہیں کرتا وہ اسی بے ذوقی اور بے لطفی میں بھی نماز پڑھتے رہتے ہیں یہاں تک کہ سب وساوس اور اوہام دور ہو جاتے ہیں۔شیطان کو شکست ملتی اور مومن کامیاب ہو جاتا ہے۔غرض منتقی کا یہ زمانہ ستی کا زمانہ نہیں ہوتا بلکہ میدان میں کھڑے رہنے کا زمانہ ہوتا ہے۔وساوس کا پوری مردانگی سے مقابلہ کرے۔الحکم جلد ۵ نمبر ۶ مؤرخه ۱۷ فروری ۱۹۰۱ صفحه ۲،۱) تقوی۔۔کسی قدر تکلف کو چاہتا ہے۔اسی لئے تو فرمایا کہ ھڈی لِلْمُتَّقِينَ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ۔اس میں ایک تکلف ہے۔مشاہدہ کے مقابل ایمان بالغیب لانا ایک قسم کے تکلف کو چاہتا ہے۔سو متقی کے لئے ایک حد تک تکلف ہے کیونکہ جب وہ صالح کا درجہ حاصل کرتا ہے تو پھر غیب اُس کے لئے غیب نہیں رہتا کیونکہ صالح کے اندر سے ایک نہر نکلتی ہے جو اس میں سے نکل کر خدا تک پہنچتی ہے۔وہ خدا اور اس کی محبت کو اپنی آنکھ سے دیکھتا ہے۔کہ مَنْ كَانَ فِي هَذِةٍ أَغْنى فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ أَعْلى (بنی اسرائیل: ۷۳ ) - ای سے ظاہر ہوتا ہے کہ جب تک انسان پوری روشنی اسی جہان میں نہ حاصل کرلے وہ بھی خدا کا منہ نہ دیکھے گا