تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 450 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 450

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۵۰ سورة البقرة عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ۔يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِن الربوا إِنْ كُنْتُم مُّؤْمِنِينَ فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا فَأَذَنُوا بِحَرْبٍ مِّنَ اللَّهِ وَ 29 رَسُولِهِ وَإِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوسُ اَمْوَالِكُمْ لَا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُونَ (۲۸۰) ایک شخص نے ایک لمبا خط لکھا کہ سیونگ بنگ کا سُود اور دیگر تجارتی کارخانوں کا سود جائز ہے یا نہیں کیونکہ اس کے ناجائز ہونے سے اسلام کے لوگوں کو تجارتی معاملات میں بڑا نقصان ہو رہا ہے۔حضرت اقدس نے فرمایا: کہ یہ ایک اجتہادی مسئلہ ہے اور جب تک کہ اس کے سارے پہلوؤں پر غور نہ کی جائے اور ہر قسم کے ہرج اور فوائد جو اس سے حاصل ہوتے ہیں وہ ہمارے سامنے پیش نہ کئے جاویں۔ہم اس کے متعلق اپنی رائے دینے کے لئے تیار نہیں ہیں کہ یہ جائز ہے۔اللہ تعالیٰ نے ہزاروں طریق روپیہ کمانے کے پیدا کئے ہیں۔مسلمان کو چاہئے کہ ان کو اختیار کرے اور اس سے پر ہیز رکھے۔ایمان صراط مستقیم سے وابستہ ہے اور اللہ تعالیٰ کے احکام کو اس طرح سے ٹال دینا گناہ ہے مثلاً اگر دنیا میں سور کی تجارت ہی سب سے زیادہ نفع مند ہو جاوے تو کیا مسلمان اس کی تجارت شروع کر دیں گے؟ ہاں! اگر ہم یہ دیکھیں کہ اس کو چھوڑنا اسلام کے لئے ہلاکت کا موجب ہوتا ہے تب ہم فمن اضطر غَيْرَ بَا وَلَا عَادٍ (البقرة : ۱۷۳) کے نیچے لا کر اس کو جائز کہہ دیں گے مگر یہ کوئی ایسا امر ہیں اور یہ ایک خانگی امر اور خود غرضی کا مسئلہ ہے۔ہم فی الحال بڑے بڑے عظیم الشان امور دینی کی طرف متوجہ ہیں۔ہمیں تو لوگوں کے ایمان کا فکر پڑا ہوا ہے۔ایسے ادنیٰ امور کی طرف ہم تو جہ نہیں کر سکتے۔اگر ہم بڑے عالیشان دینی مہمات کو چھوڑ کر ابھی سے ایسے ادنی کاموں میں لگ جائیں تو ہماری مثال اس بادشاہ کی ہوگی جو ایک مقام پر ایک محل بنانا چاہتا ہے مگر اس جگہ بڑے شیر اور درندے اور سانپ ہیں اور نیز مکھیاں اور چیونٹیاں ہیں۔پس اگر وہ پہلے درندوں اور سانپوں کی طرف توجہ نہ کرے اور ان کو ہلاکت تک نہ پہنچائے اور سب سے پہلے مکھیوں کے فنا کرنے میں مصروف ہو تو اس کا کیا حال ہوگا ؟ الحکم جلد ۶ نمبر ۱۷ مورخہ ۱۰ رمئی ۱۹۰۲ صفحہ۱۱) ایک نے سوال کیا کہ ضرورت پر شودی روپیہ لے کر تجارت وغیرہ کرنے کا کیا حکم ہے؟ فرمایا : حرام ہے۔ہاں! اگر کسی دوست اور تعارف کی جگہ سے روپیہ لیا جاوے اور کوئی وعدہ اُس کو زیادہ دینے کا نہ ہو، نہ اُس کے دل میں زیادہ لینے کا خیال ہو پھر اگر مقروض اصل سے کچھ زیادہ دے دے تو وہ سود نہیں ہوتا بلکہ یہ تو