تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 451 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 451

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۵۱ سورة البقرة هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ (الرحمن: ۶۱) ہے۔اس پر ایک صاحب نے سوال کیا کہ اگر ضرورت سخت ہو اور سوائے شود کے کام نہ چل سکے تو پھر ؟ اس پر حضرت اقدس نے فرمایا کہ خدا تعالیٰ نے اس کی خرمت مومنوں کے واسطے مقرر کی ہے اور مومن وہ ہوتا ہے جو ایمان پر قائم ہوا اللہ تعالیٰ اس کا متولی اور متکفل ہوتا ہے۔اسلام میں کروڑ ہا ایسے آدمی گزرے ہیں جنہوں نے نہ عودلیا نہ دیا آخر ان کے حوائج بھی پورے ہوتے رہے کہ نہ؟ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ نہ لو نہ دو، جو ایسا کرتا ہے وہ گویا خدا کے ساتھ لڑائی کی تیاری کرتا ہے ایمان ہو تو اس کا صلہ خدا بخشتا ہے۔ایمان بڑی بابرکت ث ہے: أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ اللهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (البقرة : ۱۰۷) اگر اُسے خیال ہو کہ پھر کیا کرے تو کیا خدا کا حکم بھی بیکار ہے اُس کی قدرت بہت بڑی ہے۔سود تو کوئی شے ہی نہیں ہے اگر اللہ تعالی کا حکم ہوتا کہ زمین کا پانی نہ پیا کرو تو وہ ہمیشہ بارش کا پانی آسمان سے دیا کرتا، اسی طرح ضرورت پر وہ خود ایسی راہ نکال ہی دیتا ہے کہ جس سے اس کی نافرمانی بھی نہ ہو۔تب تک ایمان میں میل کچیل ہوتا ہے ، تب تک یہ ضعف اور کمزوری ہے۔کوئی گناہ چھوٹ نہیں سکتا جب تک خدا نہ چھڑاوے۔ورنہ انسان تو ہر ایک گناہ پر یہ عذر پیش کر سکتا ہے کہ ہم چھوڑ نہیں سکتے اگر چھوڑیں تو گزارہ نہیں چلتا۔دوکانداروں ، عطاروں کو دیکھا جاوے کہ پرانا مال سالہا سال تک بیچتے ہیں دھوکا دیتے ہیں، ملازم پیشہ لوگ رشوت خوری کرتے ہیں اور سب یہ عذر کرتے ہیں کہ گزارہ نہیں چلتا ان سب کو اگر اکٹھا کر کے نتیجہ نکالا جاوے تو پھر یہ نکلتا ہے کہ خدا کی کتاب پر عمل ہی نہ کرو کیونکہ گزارہ نہیں چلتا حالانکہ مومن کے لئے خدا خود سہولت کر دیتا ہے یہ تمام راست بازوں کا مجرب علاج ہے کہ مصیبت اور صعوبت میں خدا خود راہ نکال دیتا ہے۔لوگ خدا کی قدر نہیں کرتے ، جیسے بھروسہ ان کو حرام کے دروازے پر ہے ویسا خدا پر نہیں ہے۔خدا پر ایمان ، یہ ایک ایسا نسخہ ہے کہ اگر قدر ہو تو جی چاہے کہ جیسے اور عجیب نسخہ مخفی رکھنا چاہتے ہیں ویسے ہی اسے بھی مخفی رکھا جاوے۔البدر جلد ۲ نمبر ۱۰ مورخه ۲۷ / مارچ ۱۹۰۳ ء صفحه ۷۵) ہمارے نزدیک شودی روپیہ لینا اور دینا دونوں حرام ہیں۔مومن وہ ہوتے ہیں جو اپنے ایمان پر قائم ہوں اللہ تعالیٰ اُن کا خود متولی اور متکفل ہو جاتا ہے اللہ تعالیٰ ہر بات پر قادر ہے۔۔۔۔عذر رکھ کر معصیت میں مبتلا ہونا یہ سفلی عذر ہے جو شیطان سے آتا ہے ورنہ خدا تعالیٰ کے فضل پر بھروسہ کرے تو سب کچھ ہوتا