تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 26 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 26

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۶ سورة البقرة یہ مادہ بتایا یہ کہو کہ یہ علت مادی ہے۔علت صوری لا ریب فیہ۔ہر ایک چیز میں شک وشبہ اور ظنون فاسدہ پیدا ہو سکتے ہیں مگر قرآن کریم ایسی کتاب ہے کہ اس میں کوئی ریب نہیں ہے لاریب اس کے لئے ہے یعنی سب قسم کے ریب اب جبکہ اللہ تعالی نے اس کتاب کی شان یہ بتائی کہ لا رَيْبَ فِيهِ تو طبعاً ہر ایک سلیم الفطرت اور سعادت مند انسان کی روح اُچھلے گی اور خواہش کرے گی کہ اس کی ہدایتوں پر عمل کرے۔ہم افسوس سے کہتے ہیں کہ قرآن شریف کی اجلی اور اصفی شان کو دنیا کے سامنے پیش نہیں کیا جاتا اور نہ قرآن شریف کی خوبیاں اور اس کے کمالات اس کا حسن اپنے اندر ایک ایسا کشش اور جذب رکھتا ہے کہ بے اختیار ہو ہو کر دل اس کی طرف چلے آئیں مثلاً اگر ایک خوش نما باغ کی تعریف کی جاوے اس کے خوشبودار درختوں اور دل کو تر و تازہ کرنے والی بوٹیوں اور روشوں اور مصفا پانی کی بہتی ہوئی ندیوں اور نہروں کا تذکرہ کیا جاوے تو ہر ایک شخص دل سے چاہے گا کہ اس کی سیر کرے اور اس سے حظ اٹھا وے اور اگر یہ بھی بتایا جاوے کہ اس میں بعض چشمے ایسے جاری ہیں جو امراض مزمنہ اور مہلکہ کو شفا دیتے ہیں تو اور بھی زیادہ جوش اور طلب کے ساتھ لوگ وہاں جائیں گے۔اسی طرح پر قرآن شریف کی خوبیوں اور کمالات کو اگر نہایت ہی خوبصورت اور مؤثر الفاظ میں بیان کیا جاوے تو روح پورے جوش کے ساتھ اس طرف دوڑتی ہے اور حقیقت میں روح کی تسلی اور سیری کا سامان اور وہ بات جس سے روح کی حقیقی احتیاج پوری ہوتی ہے قرآن کریم ہی میں ہے۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرما یا هُدًى لِلْمُتَّقِينَ اور دوسری جگہ کہا: لَا يَمَسُّةَ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ - مُطَهَّرُونَ سے مراد وہی مُتَّقِين ہیں جو هُدی ANALAL میں بیان ہوئے ہیں۔اس سے صاف طور پر معلوم ہوا کہ قرآنی علوم کے انکشاف کے لئے تقوی شرط ہے علوم ظاہری اور علوم قرآنی کے حصول کے درمیان ایک عظیم الشان فرق ہے۔دنیوی اور رسمی علوم کے حاصل کرنے کے واسطے تقوی شرط نہیں ہے۔صرف ونحو طبیعی، فلسفہ، ہئیت وطبابت پڑھنے والے کے واسطے یہ ضروری امر نہیں ہے کہ وہ صوم وصلوٰۃ کا پابند ہو، اوامر الہی اور نواہی کو ہر وقت مد نظر رکھتا ہو۔اپنے ہر فعل وقول کو اللہ تعالیٰ کے احکام کی حکومت کے نیچے رکھے۔بلکہ بسا اوقات کیا، عموماً دیکھا گیا ہے کہ دنیوی علوم کے ماہر اور طلبگار دہر یہ منش ہو کر ہر قسم کے فسق و فجور میں مبتلا ہوتے اور دہریہ ہیں۔آج دنیا کے سامنے ایک زبر دست تجر بہ موجود ہے یورپ اور امریکہ باوجود یکہ وہ لوگ ارضی علوم میں بڑی بڑی ترقیاں کر رہے ہیں اور آئے دن نئی ایجادات کرتے رہتے ہیں لیکن اُن کی روحانی اور اخلاقی حالت بہت کچھ قابل شرم ہے۔لندن کے پارکوں اور پیرس کے ہوٹلوں کے حالات جو کچھ شائع ہوتے ( ہیں ) ہم