تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 27 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 27

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۷ سورة البقرة تو ان کا ذکر بھی نہیں کر سکتے۔مگر علوم آسمانی اور اسرار قرآنی کی واقفیت کے لئے تقویٰ پہلی شرط ہے اس میں تو بتہ النصوح کی ضرورت ہے جب تک انسان پوری فروتنی اور انکساری کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے احکام کو نہ اٹھالے اور اس کے جلال اور جبروت سے لرزاں ہو کر نیاز مندی کے ساتھ رجوع نہ کرے قرآنی علوم کا دروازہ نہیں کھل سکتا۔اور روح کے اُن خواص اور قویٰ کی پرورش کا سامان اس کو قرآن شریف سے نہیں مل سکتا جس کو پا کر روح میں ایک لذت اور تسلی پیدا ہوتی ہے۔قرآن شریف اللہ تعالی کی کتاب ہے اور اس کے علوم خدا کے ہاتھ میں ہیں پس اس کے لئے تقویٰ بطور نردبان کے ہے۔پھر کیونکر ممکن ہوسکتا ہے کہ بے ایمان، شریر، خبیث النفس ارضی خواہشوں کے اسیر اُن سے بہرہ ور ہوں۔اس واسطے اگر ایک مسلمان مسلمان کہلا کر خواہ وہ صرف و نحو معانی و بدیع وغیرہ علوم کا کتنا ہی بڑا فاضل کیوں نہ ہو۔دنیا کی نظر میں شیخ الکل فی الکل بنا بیٹھا ہو لیکن اگر تزکیہ نفس نہیں کرتا قرآن شریف کے علوم سے اس کو حصہ نہیں دیا جاتا۔میں دیکھتا ہوں کہ اس وقت دنیا کی توجہ ارضی علوم کی طرف بہت جھکی ہوئی ہے اور مغربی روشنی نے عالم کو اپنی نئی ایجادوں اور صنعتوں سے حیران کر رکھا ہے۔مسلمانوں نے بھی اگر اپنی فلاح اور بہتری کی کوئی راہ سوچی تو بد قسمتی سے یہ سوچی ہے کہ وہ مغرب کے رہنے والوں کو اپنا امام بنالیں اور یورپ کی تقلید پر فخر کریں۔یہ تو نئی روشنی کے مسلمانوں کا حال ہے جو لوگ پرانے فیشن کے مسلمان کہلاتے ہیں اور اپنے آپ کو حامی دین متین سمجھتے ہیں ان کی ساری عمر کی تحصیل کا خلاصہ اور لب لباب یہ ہے کہ صرف ونحو کے جھگڑوں اور الجھیڑ وں میں پھنسے ہوئے ہیں اور ضالین کے تلفظ پر مرمٹے ہیں۔قرآن شریف کی طرف بالکل توجہ ہی نہیں اور ہو کیونکر جبکہ وہ تزکیہ نفس کی طرف متوجہ نہیں ہوتے۔ہاں ایک گروہ ایسا بھی ہے جو تزکیہ نفس کے دعوے کرتا ہے وہ صوفیوں اور سجادہ نشینوں کا گروہ ہے مگران لوگوں نے قرآن شریف کو تو چھوڑ دیا ہے اور اپنے ہی طریق اختراع کر لئے ہیں۔کوئی چلہ کشیاں کرتا ہے کوئی الا اللہ کے نعرے مارتا ہے کوئی نفی اثبات توجہ، حبس دم وغیرہ میں مبتلا ہیں۔غرض ایسے طریقے نکالے ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ہوتے اور نہ قرآن شریف کا یہ منشا ہے اور نہ کبھی سلسلہ قت نے ایسے طریقوں کو پسند کیا۔غرض یہ یاد رکھنا چاہئے کہ جب تک انسان ایک پاک تبدیلی نہیں کرتا ہے اور نفس کا تزکیہ نہیں کرتا قرآن شریف کے معارف اور خوبیوں پر اطلاع نہیں ملتی۔قرآن شریف میں وہ نکات اور حقائق ہیں جو روح کی پیاس کو بجھا دیتے ہیں۔