تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 25
تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام ۲۵ سورة البقرة نماز گویا گری پڑتی ہے۔گرنے سے مراد یہ ہے کہ اس میں ذوق اور لذت نہیں بے ذوقی اور وساوس کا سلسلہ ہے اس لئے اس میں وہ کشش اور جذب نہیں کہ انسان جیسے بھوک پیاس سے بے قرار ہو کر کھانے اور پانی کے لئے دوڑتا ہے اسی طرح پر نماز کے لئے دیوانہ وار دوڑے۔لیکن جب وہ ہدایت پاتا ہے تو پھر یہ صورت نہیں رہے گی اس میں ایک ذوق پیدا ہو جائے گا وساوس کا سلسلہ ختم ہو کر اطمینان اور سکینت کا رنگ شروع ہوگا۔و کہتے ہیں کسی شخص کی کوئی چیز گم ہو گئی تو اس نے کہا کہ ذرا ٹھہر جاؤ نماز میں یاد آ جاوے گی یہ نماز کا ملوں کی نہیں ہوا کرتی کیونکہ اس میں تو شیطان اُنہیں وسوسہ ڈالتا ہے لیکن جب کامل کا درجہ ملے گا تو ہر وقت نماز ہی میں رہے گا اور ہزاروں روپیہ کی تجارت اور مفاد بھی اس میں کوئی ہرج اور روک نہیں ڈال سکتا۔اسی طرح پر باقی جو کیفیتیں ہیں وہ نرے قال کے رنگ میں نہ ہوں گی ان میں حالی کیفیت پیدا ہو جائے گی اور غیب سے شہود پر پہنچ جاوے گا۔یہ مراتب نرے سنانے ہی کو نہیں ہیں کہ بطور قصہ تم کو سناد یا اور تم بھی تھوڑی دیر کے لئے سُن کر خوش ہو گئے۔نہیں یہ ایک خزانہ ہے اس کو مت چھوڑو۔اس کو نکال لو یہ تمہارے اپنے ہی گھر میں ہے اور تھوڑی سی محنت اور سعی سے اس کو پا سکتے ہو۔(احکم جلد نمبر ۳ مؤرخہ ۲۴ جنوری ۱۹۰۷ء صفحہ ۷ ) سمجھنا چاہئے کہ صفائی ذہن بھی تو آخر تقویٰ سے ہی حاصل ہوتا ہے۔اسی واسطے خدا تعالیٰ فرماتا ہے المن ذلك الكتبُ لا رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ یعنی یہ کتاب انہیں کو ہدایت نصیب کرتی ہے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں اور جن میں تقویٰ نہیں وہ تو اندھے ہیں۔اگر کوئی پاک نظر سے اور خدا کا خوف کر کے اس کو دیکھتا ہے تب تو اس کو سب کچھ اس میں سے نظر آ جاتا ہے اور اگر ضد اور تعصب کی پٹی آنکھوں پر باندھی ہوئی ہے تو وہ اس میں سے کچھ بھی نہیں دیکھ سکتا۔الحکم جلد ۱۲ نمبر ۳ مؤرخه ۱۰/جنوری ۱۹۰۸ء صفحه ۳) پھر دیکھو کہ تقوی کو ایسی اعلیٰ درجہ کی ضروری شے قرار دیا گیا ہے کہ قرآن کریم کی علت غائی اسی کو ٹھہرایا ہے چنانچہ دوسری سورۃ کو جب شروع کیا ہے تو یوں ہی فرمایا ہے الم 8 ذَلِكَ الْكِتَبُ لَا رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ۔میرا مذہب یہی ہے کہ قرآن کریم کی یہ ترتیب بڑا مرتبہ رکھتی ہے۔خدا تعالیٰ نے اس میں علیل اربعہ کا ذکر فرمایا ہے علت فاعلی، مادی ، صوری ، غائی ہر ایک چیز کے ساتھ یہ چار ہی علل ہوتی ہیں۔قرآن کریم نہایت اکمل طور پر ان کو دکھاتا ہے اللہ۔اس میں یہ اشارہ ہے کہ اللہ تعالی نے جو بہت جاننے والا ہے اس کلام کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کیا ہے یعنی خدا اس کا فاعل ہے۔ذلِكَ الْكِتَبُ -