تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 396
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۹۶ سورة البقرة او پر قابو نہیں رکھ سکتے۔طلاق کا مسئلہ بنا دیا ہے کہ وہ اس طرح ان آفات اور مصیبتوں سے بچ جاویں جو طلاق کے نہ ہونے کی صورت میں پیش آئیں یا بعض اوقات دوسرے لوگوں کو بھی ایسی صورتیں پیش آجاتی ہیں اور ایسے واقعات ہو جاتے ہیں کہ سوائے طلاق کے اور کوئی چارہ نہیں ہوتا۔پس اسلام نے جو کہ تمام مسائل پر حاوی ہے یہ مسئلہ طلاق کا بھی دکھلایا ہے اور ساتھ ہی اس کو مکر وہ بھی قرار دیا ہے۔( بدر جلد ۶ نمبر ۳۸ مورخه ۱۹ ستمبر ۱۹۰۷ ء صفحہ ۷) شریعت اسلام نے صرف مرد کے ہاتھ میں ہی یہ اختیار نہیں رکھا کہ جب کوئی خرابی دیکھے یا ناموافقت پاوے تو عورت کو طلاق دے دے بلکہ عورت کو بھی یہ اختیار دیا ہے کہ وہ بذریعہ حاکم وقت کے طلاق لے لے۔اور جب عورت بذریعہ حاکم کے طلاق لیتی ہے تو اسلامی اصطلاح میں اس کا نام ضلع ہے۔جب عورت مرد کو ظالم پاوے یا وہ اُس کو ناحق مارتا ہو یا اور طرح سے ناقابل برداشت بدسلوکی کرتا ہو یا کسی اور وجہ سے ناموافقت ہو یا وہ مرد دراصل نامرد ہو یا تبدیل مذہب کرے یا ایسا ہی کوئی اور سبب پیدا ہو جائے جس کی وجہ سے عورت کو اُس کے گھر میں آباد در بنا نا گوار ہو تو ان تمام حالتوں میں عورت یا اُس کے کسی ولی کو چاہئے کہ حاکم وقت کے پاس یہ شکایت کرے اور حاکم وقت پر یہ لازم ہوگا کہ اگر عورت کی شکایت واقعی درست سمجھے تو اس عورت کو اس مرد سے اپنے حکم سے علیحدہ کر دے اور نکاح کو توڑ دے لیکن اس حالت میں اس مرد کو بھی عدالت میں بلانا ضروری ہوگا کہ کیوں نہ اُس کی عورت کو اُس سے علیحدہ کیا جائے۔(چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۲۸۹،۲۸۸) مجبوریوں کے وقت عورتوں کے لئے بھی راہ کھلی ہے کہ اگر مرد بیکار ہو جاوے تو حاکم کے ذریعہ سے ضلع کرالیں جو طلاق کے قائم مقام ہے۔۔۔۔۔اگر عورت مرد کے تعد دازدواج پر ناراض ہے تو وہ بذریعہ حاکم خلع کشتی نوح ، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۸۱۰۸۰) کراسکتی۔کرا سکتی ہے۔فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَةً فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يَتَرَاجَعَا إِنْ ظَنَّا أَن يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ وَتِلْكَ حُدُودُ اللهِ يبَيِّنُهَا لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ (۲۳۱) اگر تیسری طلاق جو تیسرے حیض کے بعد ہوتی ہے، دے دے تو اب وہ عورت اس کی عورت نہیں رہی اور جب تک وہ دوسرا خاوند نہ کر لے تب تک نیا نکاح اس سے نہیں ہو سکتا ( یعنی ایسے شخص کی سزا یہی ہے جو