تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 397
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۹۷ سورة البقرة باوجود ہدایت متذکرہ بالا کے پھر نہ سمجھے اور چونکہ یہ عورت اب اس کی عورت نہیں رہی اس لئے وہ خاوند کرنے w آریہ دھرم، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۵۳،۵۲) میں اختیار کلی رکھتی ہے۔) بعض آر یہ عذر معقول سے عاجز آ کر یہ جواب دیا کرتے ہیں کہ مسلمانوں میں حلالہ کی رسم نیوگ سے مشابہ ہے یعنی جو مسلمان اپنی جورو کو طلاق دے وہ اپنی جو رو کو اپنے پر حلال کرنے کے لئے دوسرے سے ایک رات ہم بستر کراتا ہے تب آپ اس کو اپنے نکاح میں لے آتا ہے۔سو ہم اس افترا کا جواب بجز لعنة اللہ علی الکاذبین اور کیا دے سکتے ہیں۔ناظرین پر واضح رہے کہ اسلام سے پہلے عرب میں حلالہ کی رسم تھی لیکن اسلام نے اس ناپاک رسم کو قطعاً حرام کر دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے لوگوں پر لعنت بھیجی ہے جو حلالہ کے پابند ہوں چنانچہ ابن عمر سے مروی ہے کہ حلالہ زنا میں داخل ہے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حلالہ کرنے کرانے والے سنگسار کئے جاویں۔اگر کوئی مطلقہ سے نکاح کرے تو نکاح تب درست ہو گا کہ جب واقعی طور پر اس کو اپنی جو رو بنالے اور اگر دل میں یہ خیال ہو کہ وہ اس حیلہ کے لئے اس کو جور و بناتا ہے کہ تا اس کی طلاق کے بعد دوسرے پر حلال ہو جائے تو ایسا نکاح ہرگز درست نہیں اور ایسا نکاح کرنے والا اس عورت سے زنا کرتا ہے اور جو ایسے فعل کی ترغیب دے وہ اس سے زنا کرواتا ہے۔غرض حلالہ علمائے اسلام کے اتفاق سے حرام ہے اور آئمہ اور علماء سلف جیسے حضرت قتادہ، عطا اور امام حسن اور ابراہیم نخعی اور حسن بصری اور مجاہد اور شعبی اور سعید بن مسیب اور امام مالک، لیٹ ، ثوری، امام احمد بن حنبل وغیرہ صحابہ اور تابعین اور تبع تابعین اور سب محققین علماء اس کی حرمت کے قائل ہیں اور شریعت اسلام اور نیز لغت عرب میں بھی زوج اس کو کہتے ہیں کہ کسی عورت کو فی الحقیقت اپنی جور و بنانے کے لئے تمام حقوق کو مدِ نظر رکھ کر اپنے نکاح میں لاوے اور نکاح کا معاہدہ حقیقی اور واقعی ہو نہ کہ کسی دوسرے کے لئے ایک حیلہ ہو۔اور قرآن شریف میں جو آیا ہے حتٰی تَنْكِحَ زَوْجًا غَیرہ اس کے یہی معنے ہیں کہ جیسے دنیا میں نیک نیتی کے ساتھ اپنے نفس کی اغراض کے لئے نکاح ہوتے ہیں ایسا ہی جب تک ایک مطلقہ کے ساتھ کسی کا نکاح نہ ہو اور وہ پھر اپنی مرضی سے اس کو طلاق نہ دے تب تک پہلے طلاق دینے والے سے دوبارہ اس کا نکاح نہیں ہو سکتا۔سو آیت کا یہ منشاء نہیں ہے کہ جو رو کرنے والا پہلے خاوند کے لئے ایک راہ بنا دے اور آپ نکاح کرنے کے لئے سچی نیت نہ رکھتا ہو بلکہ نکاح صرف اس صورت میں ہوگا کہ اپنے پختہ اور مستقل ارادہ سے اپنے صحیح اغراض کو مد نظر رکھ کر نکاح کرے ورنہ اگر کسی حیلہ کی غرض سے نکاح کرے گا تو عند الشرع وہ نکاح ہرگز