تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 395 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 395

۳۹۵ سورة البقرة تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام بھی رحم آتا ہو بلکہ وہ روتا بھی ہو مگر پھر بھی چونکہ اس کی طرف سے کراہت ہوتی ہے اس لئے وہ طلاق دے سکتا ہے۔مزاجوں کا آپس میں موافق نہ ہونا یہ بھی ایک شرعی امر ہے۔(البدر جلد ۲ نمبر ۱۵ یکم مئی ۱۹۰۳ صفحہ ۱۱۷) اگر شرط ہو کہ فلاں بات ہو تو طلاق ہے اور وہ بات ہو جائے تو پھر واقعی طلاق ہو جاتی ہے جیسے کوئی شخص کہے کہ اگر فلاں پھل کھاؤں تو طلاق ہے اور پھر وہ کھالے تو طلاق ہو جاتی ہے۔البدر جلد ۲ نمبر ۲۱ مورخه ۱۲ جون ۱۹۰۳ ء صفحه ۱۶۲) ایک صاحب نے اول بڑے چاہ سے ایک شریف لڑکی کے ساتھ نکاح ثانی کیا مگر بعد ازاں بہت سے خفیف عذر پر دس ماہ کے اندر ہی انہوں نے چاہا کہ اس سے قطع تعلق کر لیا جاوے۔اس پر حضرت اقدس علیہ السلام کو بہت سخت ملال ہوا اور فرمایا کہ مجھے اس قدر غصہ ہے کہ میں اسے برداشت نہیں کر سکتا اور ہماری جماعت میں ہو کر پھر یہ ظالمانہ طریق اختیار کرنا سخت عیب کی بات ہے۔چنانچہ دوسرے دن پھر حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ فیصلہ صادر فرمایا کہ : وہ صاحب اپنی اس نئی یعنی دوسری بیوی کو علیحدہ مکان میں رکھیں۔جو کچھ زوجہ اول کو دیو یں وہی اسے دیویں ایک شب اُدھر رہیں تو ایک شب ادھر رہیں اور دوسری عورت کوئی لونڈی غلام نہیں ہے بلکہ بیوی ہے اُسے زوجہ اول کا دست نگر کر کے نہ رکھا جاوے۔(البدر جلد ۲ نمبر ۲۳ مورخه ۲۶ رنجون ۱۹۰۳ صفحه ۱۷۸) یہ مرض عورتوں میں بہت کثرت سے ہوا کرتا ہے کہ وہ ذراسی بات پر بگڑ کر اپنے خاوند کو بہت کچھ بھلا بُرا کہتی ہیں بلکہ اپنی ساس اور سسر کو بھی سخت الفاظ سے یاد کرتی ہیں حالانکہ وہ اُس کے خاوند کے بھی قابلِ علات بزرگ ہیں وہ اس کو ایک معمولی بات سمجھ لیتی ہیں اور ان سے لڑ نا وہ ایسا ہی سمجھتی ہیں جیسا کہ محلہ کی اور عورتوں سے جھگڑا۔حالانکہ خدا تعالیٰ نے ان لوگوں کی خدمت اور رضا جوئی ایک بہت بڑا فرض مقرر کیا ہے۔یہاں تک کہ حکم ہے کہ اگر والدین کسی لڑکے کو مجبور کریں کہ وہ اپنی عورت کو طلاق دے دے تو اُس کے لڑکے کو چاہئے کہ وہ طلاق دے دے پس جبکہ ایک عورت کی ساس اور سسر کے کہنے پر اس کو طلاق مل سکتی ہے تو اور کون سی بات رہ گئی ہے۔الحکم جلد نمبر ۱۱ مورخہ ۳۱ مارچ ۱۹۰۷ صفحہ ۱۰) جائز چیزوں میں سے سب سے زیادہ بُرا خدا اور اُس کے رسول نے طلاق کو قرار دیا ہے اور یہ صرف ایسے موقعوں کے لئے رکھی گئی ہے۔جبکہ اشد ضرورت ہو جیسا کہ خدا تعالیٰ نے جو رب ہے کہ سانپوں اور بچھوؤں کے لئے خوراک مہیا کی ہے ویسا ہی ایسے انسانوں کے لئے جن کی حالتیں بہت گرمی ہوئی ہیں اور جو اپنے