تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 394 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 394

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۹۴ سورة البقرة لے کر آتے ہیں تو آخر دانا حکام اس وقت ان کو کہہ دیتے ہیں کہ ایک ہفتہ کے بعد آنا۔اصل غرض ان کی صرف یہی ہوتی ہے کہ یہ آپس میں صلح کر لیں گے اور اُن کے یہ جوش فرو ہوں گے تو پھر ان کی مخالفت باقی (نہ) رہے گی اسی واسطے وہ اس وقت اُن کی وہ درخواست لینا مصلحت کے خلاف جانتے ہیں۔اسی طرح اللہ تعالیٰ نے بھی مرد اور عورت کے الگ ہونے کے واسطے ایک کافی موقعہ رکھ دیا ہے۔یہ ایک ایسا موقع ہے کہ طرفین کو اپنی بھلائی برائی کے سوچنے کا موقع مل سکتا ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے: الطلاق مرشن۔یعنی دو دفعہ کی طلاق ہونے کے بعد یا اُسے اچھی طرح سے رکھ لیا جاوے یا احسان سے جُدا کر دیا جاوے۔اگر اتنے لمبے عرصے میں بھی ان کی آپس میں صلح نہیں ہوتی تو پھر ممکن نہیں کہ وہ اصلاح پذیر ہیں۔الحکم جلدے نمبر ۱۳ مورخه ۱۰ /اپریل ۱۹۰۳ صفحه ۱۴) طلاق ایک وقت میں کامل نہیں ہو سکتی طلاق میں تین طہر ہونے ضروری ہیں فقہا نے ایک ہی مرتبہ تین طلاق دے دینی جائز رکھی ہے مگر ساتھ ہی اس میں یہ رعایت بھی ہے کہ عدت کے بعد اگر خاوند رجوع کرنا چاہے تو وہ عورت اسی خاوند سے نکاح کر سکتی ہے اور دوسرے شخص سے بھی کرسکتی ہے۔قرآن کریم کی رو سے جب تین طلاق دے دی جاویں تو پہلا خاوند اس عورت سے نکاح نہیں کر سکتا جب تک کہ وہ کسی اور کے نکاح میں آوے اور پھر وہ دوسرا خاوند بلا عمداً اُسے طلاق دے دیوے اگر وہ عمداً اسی لئے طلاق دے گا کہ اپنے پہلے خاوند سے وہ پھر نکاح کر لیوے تو یہ حرام ہوگا کیونکہ اس کا نام حلالہ ہے جو کہ حرام ہے۔فقہا نے جو ایک دم کی تین طلاقوں کو جائز رکھا ہے اور پھر عدت کے گزرنے کے بعد اُسی خاوند سے نکاح کا حکم دیا گیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اس نے اوّل اُسے شرعی طریق سے طلاق نہیں دی۔قرآن شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا کو طلاق بہت ناگوار ہے کیونکہ اس سے میاں بیوی دونوں کی خانہ بربادی ہو جاتی ہے اس واسطے تین طلاق اور تین طہر کی مدت مقرر کی کہ اس عرصہ میں دونوں اپنا نیک و بد سمجھ کر اگر صلح چاہیں تو کر لیو یں۔(البدر جلد ۲ نمبر ۱۴ مورخه ۲۴ را پریل ۱۹۰۳ صفحه ۱۰۵) عورت مرد کا معاملہ آپس میں جو ہوتا ہے اس پر دوسرے کو کامل اطلاع نہیں ہوتی بعض وقت ایسا بھی ہوتا ہے کہ کوئی مخش عیب عورت میں نہیں ہوتا مگر تاہم مزاجوں کی ناموافقت ہوتی ہے جو کہ باہمی معاشرہ کی مخل ہوتی ہے ایسی صورت میں مرد طلاق دے سکتا ہے۔بعض وقت عورت ، گوولی ہو اور بڑی عابد اور پرہیز گار اور پاکدامن ہو اور اس کو طلاق دینے میں خاوند کو