تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 393 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 393

تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام ۳۹۳ سورة البقرة اگر طلاق ایسا امر ہوتا جو کہ کانشنس کے خلاف ہے تو پھر دیگر اقوام بھی اسے بجانہ لاتیں لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ کوئی بھی ایسی قوم نہیں ہے جو ضرورت کے وقت عورت کو طلاق نہ دیتی ہو۔البدرجلد ۲ نمبر ۱۵ مورخہ یکم مئی ۱۹۰۳ صفحه ۱۱۷) در حقیقت اسلامی پاکیزگی نے ہی طلاق کی ضرورت کو محسوس کیا ہے ورنہ جو لوگ دیوثوں کی طرح زندگی بسر کرتے ہیں ان کے نزدیک گوان کی عورت کچھ کرتی پھرے طلاق کی ضرورت نہیں۔(نسیم دعوت ،روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۴۴۶ حاشیه ) روحانی اور جسمانی طور پر اپنی بیویوں سے نیکی کرو، اُن کے لئے دُعا کرتے رہو اور طلاق سے پر ہیز کرو کیونکہ نہایت بد خدا کے نزدیک وہ شخص ہے جو طلاق دینے میں جلدی کرتا ہے جس کو خدا نے جوڑا ہے اس کو ایک گندے برتن کی طرح جلد مت توڑو۔(تحفہ گولا و بی روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحہ ۷۵ حاشیہ ) ایک صاحب نے یہ سوال کیا کہ جو لوگ ایک ہی دفعہ تین طلاق لکھ دیتے ہیں اُن کی وہ طلاق جائز ہوتی ہے یا نہیں؟ اس کے جواب میں فرمایا کہ قرآن شریف کے فرمودہ کی رو سے تین طلاق دی گئی ہوں اور اُن میں سے ہر ایک کے درمیان اتنا ہی وقفہ رکھا گیا جو قرآن شریف نے بتایا ہے تو ان تینوں کی عدت کے گزرنے کے بعد اس خاوند کا کوئی تعلق اس بیوی سے نہیں رہتا ہاں اگر کوئی اور شخص اس عورت سے عدت گزرنے کے بعد نکاح کرے اور پھر اتفاقاً وہ اُس کو طلاق دے دے تو اُس خاوند اوّل کو جائز ہے کہ اُس بیوی سے نکاح کرلے۔مگر اگر دوسرا خاوند، خاوند اول کی خاطر سے یا لحاظ سے اُس بیوی کو طلاق دے کہ تاوہ پہلا خاوند اُس سے نکاح کرلے تو یہ حلالہ ہوتا ہے اور یہ حرام ہے۔لیکن اگر تین طلاق ایک ہی وقت میں دی گئی ہوں تو اس خاوند کو یہ فائدہ دیا گیا ہے کہ وہ عدت کے گزرنے کے بعد بھی اس عورت سے نکاح کر سکتا ہے کیونکہ یہ طلاق ناجائز طلاق تھا اور اللہ ورسول کے فرمان کے موافق نہ دیا گیا تھا دراصل قرآن شریف میں غور کرنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کو یہ امر نہایت ہی ناگوار ہے کہ پرانے تعلقات والے خاوند اور بیوی آپس کے تعلقات کو چھوڑ کر الگ الگ ہو جائیں۔یہی وجہ ہے کہ اُس نے طلاق کے واسطے بڑے بڑے شرائط لگائے ہیں۔وقفہ کے بعد تین طلاق کا دینا اور ان کا ایک ہی جگہ رہنا وغیرہ۔یہ امور سب اس واسطے ہیں کہ شاید کسی وقت اُن کے دلی رنج دور ہو کر آپس میں صلح ہو جاوے۔اکثر دیکھا جاتا ہے کہ کبھی کوئی قریبی رشتہ دار وغیرہ آپس میں لڑائی کرتے ہیں اور تازے جوش کے وقت میں حکام کے پاس عرضی پرچے