تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 385 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 385

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۸۵ سورة البقرة اللہ تعالیٰ تو بہ کرنے والوں سے پیار کرتا ہے اور نیز اُن لوگوں سے پیار کرتا ہے کہ جو اس بات پر زور لگاتے ہیں کہ کسی طرح گناہ سے پاک ہو جائیں۔چشمه معرفت ، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۲۴) ایک تو تواب ہوتے ہیں ایک مطھر ہوتے ہیں۔تو اب ان کو کہا جاتا ہے جو بکلی خدا کی طرف رجوع کر لیتے ہیں اور مطھر وہ ہوتے ہیں کہ وہ مجاہدات اور ریاضات کرتے رہتے ہیں اور ان کے دل میں ایک کیٹ سی لگی رہتی ہے کہ کسی طرح سے ان آلائشوں سے پاک ہو جاویں اور نفس امارہ کے جذبات پر ہر طرح سے غالب آ کر ز کی النفس بن جاویں۔الحکم جلد ۱۲ نمبر ۴ مورخه ۱۴ /جنوری ۱۹۰۸ء صفحه ۲) نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ الى شقتُم وَقَدِمُوا لِأَنْفُسِكُمْ وَ 00 اتَّقُوا اللهَ وَاعْلَمُوا أَنَّكُمُ مُلْقُوهُ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ اسلام نے نکاح کرنے سے علتِ غائی ہی یہی رکھی ہے کہ تا انسان کو وجہ حلال سے نفسانی شہوات کا وہ علاج میسر آوے جو ابتدا سے خدا تعالیٰ کے قانونِ قدرت میں رکھا گیا ہے اور اس طرح اس کو عفت اور پر ہیز گاری حاصل ہو کر نا جائز اور حرام شہوت رانیوں سے بچار ہے۔کیا جس نے اپنی پاک کلام میں فرمایا کہ نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ یعنی تمہاری عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں اس کی نسبت کہہ سکتے ہیں کہ اس کی غرض صرف یہ تھی کہ تالوگ شہوت رانی کریں اور کوئی مقصد نہ ہو۔کیا کھیتی سے صرف لہو و لعب ہی غرض ہوتی ہے؟ یا یہ مطلب ہوتا ہے کہ جو بیج بویا گیا ہے اس کو کامل طور پر حاصل کر لیں۔پھر میں کہتا ہوں کہ کیا جس نے اپنی مقدس کلام میں فرمایا : مُحْصِنِيْنَ غَيْرَ مُسْفِحِينَ (النساء : ۲۵ ، المائدة:1) یعنی تمہارے نکاح کا یہ مقصود ہونا چاہئے کہ تمہیں عفت اور پرہیز گاری حاصل ہو اور شہوات کے بدنتائج سے بیچ جاؤ، یہ نہیں مقصود ہونا چاہئے کہ تم حیوانات کی طرح بغیر کسی پاک غرض کے شہوت کے بندے ہو کر اس کام میں مشغول ہو کیا اس حکیم خدا کی نسبت یہ خیال کر سکتے ہیں کہ اس نے اپنی تعلیم میں مسلمانوں کو صرف شہوت پرست بنانا چاہا اور یہ باتیں فقط قرآن شریف میں نہیں بلکہ ہماری معتبر حدیث کی دو کتابیں بخاری اور مسلم میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی روایت ہے۔آریہ دھرم، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۴۴) تمہاری عورتیں تمہاری اولاد پیدا ہونے کے لئے ایک کھیتی ہیں پس تم اپنی کھیتی کی طرف جس طور سے چاہو آؤ۔صرف کھیتی ہونے کا لحاظ رکھو یعنی اس طور سے صحبت نہ کرو جو اولاد کی مانع ہو۔بعض آدمی اسلام کے