تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 386 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 386

تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام ۳۸۶ سورة البقرة اوائل زمانہ میں صحبت کے وقت انزال کرنے سے پر ہیز کرتے تھے اور باہر انزال کر دیتے تھے۔اس آیت میں خدا نے اُن کو منع فرمایا اور عورتوں کا نام کھیتی رکھا یعنی ایسی زمین جس میں ہر قسم کا اناج اُگتا ہے پس اس آیت میں ظاہر فرمایا کہ چونکہ عورت در حقیقت کھیتی کی مانند ہے جس سے اناج کی طرح اولاد پیدا ہوتی ہے سو یہ جائز نہیں کہ اس کھیتی کو اولاد پیدا ہونے سے روکا جاوے۔ہاں! اگر عورت بیمار ہو اور یقین ہو کہ حمل ہونے سے اُس کی موت کا خطرہ ہوگا ایسا ہی صحت نیت سے کوئی اور مانع ہو تو یہ صورتیں مستقلی ہیں ورنہ عند الشرع ہرگز جائز نہیں کہ اولاد ہونے سے روکا جائے۔غرض جب کہ خدا تعالیٰ نے عورت کا نام کھیتی رکھا تو ہر ایک عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ اسی واسطے اُس کا نام کھیتی رکھا کہ اولاد پیدا ہونے کی جگہ اُس کو قرار دیا اور نکاح کے اغراض میں سے ایک یہ بھی غرض رکھی کہ تا اس نکاح سے خدا کے بندے پیدا ہوں جو اُس کو یاد کریں۔دوسری غرض اللہ تعالیٰ نے یہ بھی قرار دی ہے کہ تا مردا اپنی بیوی کے ذریعہ اور بیوی اپنے خاوند کے ذریعہ سے بدنظری اور بدعملی سے محفوظ رہے۔تیسری غرض یہ بھی قرار دی ہے کہ تابا ہم اُنس ہو کر تنہائی کے رنج سے محفوظ رہیں۔(چشمہ معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۲۹۲، ۲۹۳) وَلا تَجْعَلُوا اللهَ عُرُضَةً لِإِيْمَانِكُمْ أَنْ تَبَرُّوا وَ تَتَّقُوا وَ تُصْلِحُوا بَيْنَ النَّاسِ وَاللهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ۔(۲۲۵ قرآن شریف کی رو سے لغو یا جھوٹی قسمیں کھانا منع ہے کیونکہ وہ خدا سے ٹھٹھا ہے اور گستاخی ہے اور ایسی قسمیں کھانا بھی منع ہے جو نیک کاموں سے محروم کرتی ہوں جیسا کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے قسم کھائی تھی کہ میں آئندہ مسطح صحابی کو صدقہ خیرات نہیں دوں گا تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی: وَلَا تَجْعَلُوا اللهَ عُرْضَةٌ لإيْمَانِكُمْ أَنْ تَبَرُّوا وَ تَتَّقُوا۔یعنی ایسی قسمیں مت کھاؤ جو نیک کاموں سے باز رکھیں۔۔تفسیر مفتی ابو مسعود مفتی روم میں زیر آیت لَا تَجْعَلُوا اللهَ عُرْضَةٌ لِإِيْمَانِكُمْ لکھا ہے کہ عُرضہ اس کو کہتے ہیں کہ جو چیز ایک بات کے کرنے سے عاجز اور مانع ہو جائے اور لکھا ہے کہ یہ آیت ابوبکر صدیق کے حق میں ہے جب کہ انہوں نے قسم کھائی تھی کہ مسطح کو جو صحابی ہے باعث شراکت اس کی حدیث افک میں کچھ خیرات نہیں دوں گا۔پس خدا تعالیٰ اس آیت میں فرماتا ہے کہ ایسی قسمیں مت کھاؤ جو تمہیں نیک کاموں اور اعمال صالحہ سے روک دیں نہ یہ کہ معاملہ متنازعہ جس سے طے ہو۔الحکم جلد ۸ نمبر ۲۲ مورخہ ۱۰ جولائی ۱۹۰۴ صفحہ ۷ )