تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 381
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۸۱ سورة البقرة ج تَقْرَبُوهُنَ حَتَّى يَطْهُرْنَ فَإِذَا تَطَهَّرْنَ فَأْتُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ أَمَرَكُمُ اللهُ إِنَّ اللهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ یعنی حیض کے دنوں میں عورتوں سے کنارہ کرو اور ان کے نزدیک مت جاؤ یعنی صحبت کے ارادہ سے جب تک کہ وہ پاک ہو لیں۔اگر ایسی صفائی سے کنارہ کشی کا بیان وید میں بھی ہو تو کوئی صاحب پیش کریں لیکن ان آیات سے یہ مراد نہیں کہ خاوند کو بغیر ارادہ صحبت کے اپنی عورت کو ہاتھ لگانا بھی حرام ہے یہ تو حماقت اور بیوقوفی ہوگی کہ بات کو اس قدر دور کھینچا جائے کہ تمدن کے ضرورات میں بھی حرج واقع ہو اور عورت کو ایام حیض میں ایک ایسی زہر قاتل کی طرح سمجھا جائے جس کے چھونے سے فی الفورموت نتیجہ ہے۔اگر بغیر ارادہ صحبت عورت کو چھونا حرام ہوتا تو بیچاری عورتیں بڑی مصیبت میں پڑ جاتیں۔بیمار ہوتیں تو کوئی نبض بھی دیکھ نہ سکتا گرتیں تو کوئی ہاتھ سے اٹھا نہ سکتا اگر کسی درد میں ہاتھ پیر دبانے کی محتاج ہوتیں تو کوئی دبا نہ سکتا اگر مرتیں تو کوئی دفن نہ کر سکتا کیونکہ ایسی پلید ہو گئیں کہ اب ہاتھ لگانا ہی حرام ہے۔سو یہ سب نافہموں کی جہالتیں ہیں اور بیچ یہی ہے کہ خاوند کو ایام حیض میں صحبت حرام ہو جاتی ہے لیکن اپنی عورت سے محبت اور آثار محبت حرام نہیں ہوتے۔آریہ دھرم، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۴۹) إِنَّ اللهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ یعنی خدا تو بہ کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے اور اُن کو بھی دوست رکھتا ہے جو جسمانی طہارت کے پابند رہتے ہیں۔سو توابین کے لفظ سے خدا تعالیٰ نے باطنی طہارت اور پاکیزگی کی طرف توجہ دلائی اور متطهرین کے لفظ سے ظاہری طہارت اور پاکیزگی کی ترغیب دی۔اور اس آیت سے یہ مطلب نہیں کہ صرف ایسے شخص کو خدا تعالیٰ دوست رکھتا ہے کہ جو محض ظاہری پاکیزگی کا پابند ہو بلکہ توابین کے لفظ کو ساتھ ملا کر بیان فرمایا تا اس بات کی طرف اشارہ ہو کہ خدا تعالیٰ کی اپنے بندوں کے لئے اکمل اور اتحد محبت جس سے قیامت میں نجات ہوگی اسی سے وابستہ ہے کہ انسان علاوہ ظاہری پاکیزگی کے خدا تعالیٰ کی طرف سچار جوع کرے۔لیکن محض ظاہری پاکیزگی کی رعایت رکھنے والا دنیا میں اس رعایت کا فائدہ صرف اس قدر اٹھا سکتا ہے کہ بہت سے جسمانی امراض سے محفوظ رہے۔اور اگر چہ وہ خدا تعالیٰ کی اعلیٰ درجہ کی محبت کا نتیجہ نہیں دیکھ سکتا مگر چونکہ اُس نے تھوڑا سا کام خدا تعالیٰ کی منشا کے موافق کیا ہے یعنی اپنے گھر اور بدن اور کپڑوں کو ناپاکیوں سے پاک رکھا ہے اس لئے اس قدر نتیجہ دیکھنا ضروری