تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 376
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ٣٦ سورة البقرة پاؤ گے جواب تم سے پوشیدہ ہیں، جو نہ دنیا میں کسی نے دیکھیں اور نہ سنیں اور نہ دلوں میں گزریں وہ تمام مخفی امور ہیں اسی وقت سمجھ میں آئیں گی جب وارد ہوں گی۔جو کچھ قرآن اور حدیث میں وعدے ہیں وہ سب مثال کے طور پر بیان کیا ہے اور ساتھ اس کے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ وہ امور مخفی ہیں جن کی کسی کو اطلاع نہیں پس اگر وہ لذات اسی قدر ہوتیں جیسے اس دنیا میں شربت یا شراب پینے کی لذت یا عورت کے جماع کی لذت ہوتی ہے تو خدا تعالیٰ یہ نہ کہتا کہ وہ ایسے امور ہیں کہ جو نہ کسی آنکھ نے دیکھے اور نہ کسی کان نے سنے اور نہ وہ کبھی کسی کے دل میں گزرے۔پس ہم مسلمان لوگ اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ بہشت جو جسم اور روح کے لئے دارالجزا ہے وہ ایک ادھورا اور ناقص دار الجز انہیں بلکہ اس میں جسم اور جان دونوں کو اپنی اپنی حالت کے موافق جزا ملے گی جیسا کہ جہنم میں اپنی اپنی حالت کے موافق دونوں کو سزادی جائے گی اور اس کی اصل تفصیلات ہم خدا کے حوالے کرتے ہیں اور ایمان رکھتے ہیں کہ جزا سزا جسمانی روحانی دونوں طور پر ہوں گی اور یہی وہ عقیدہ ہے جو عقل اور انصاف کے موافق ہے اور یہ نہایت شرارت اور خباثت اور حرام زدگی ہے کہ قرآن پر یہ طعن وارد کیا جائے کہ وہ صرف جسمانی بہشت کا وعدہ کرتا ہے۔قرآن تو صاف کہتا ہے کہ ہر یک جو بہشت میں داخل ہوگا وہ جسمانی روحانی دونوں قسم کی جزا پائے گا اور جیسا کہ نعمت جسمانی اس کو ملے گی ایسا ہی وہ دیدار الہی سے لذت اٹھائے گا اور یہی اعلی لذت بہشت میں ہے، معارف کی لذت بھی ہوگی اور طرح طرح کے انوار کی لذت بھی ہوگی اور عبادت کی لذت بھی ہوگی مگر اس کے ساتھ جسم بھی اپنی سعادت تامہ کو پہنچے گا۔( نور القرآن، روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۴۲۳، ۴۲۴) وَمِنْ اِعْتِرَاضَاتِهِمْ أَنَّهُمْ قَالُوا إِن اور اُن کے اعتراضات میں سے ایک یہ ہے کہ وہ كَانَ هَذَا هُوَ الْمَسِيحُ الَّذِى أُرْسِلَ لِكَسْرِ کہتے ہیں کہ اگر یہ وہی مسیح ہے جو صلیب توڑنے اور الصَّلِيْب وَقَتْلِ الْخَنَازِيرِ فَقَدْ مَضَتْ سوروں کو قتل کرنے کے لئے بھیجا گیا ہے تو اس پرصدی عَلَيْهِ إحْدَى عَشَرَ سَنَةٌ مِنْ رَأْسِ الْقَرْنِ کے سر سے گیارہ سال گزر چکے ہیں۔تو کون سی صلیب فَأَى صَلِيْب گستر، وَأَى خِنْزِيرٍ قُتِلَ، وَأَئى توڑی گئی اور کون ساختر پر قتل کیا ہے اور کونسا جز یہ موقوف جِزْيَةٍ وُضِعَ، وَمَنْ ذَا الَّذِي دَخَلَ فی کیا گیا ؟ اور کون ہے جس نے کافروں کی راہوں کو چھوڑا الْإِسْلَامِ وَتَرَكَ سُبُلَ الْكَافِرِينَ اور اسلام میں داخل ہوا؟ أَمَّا الْجَوَابَ فَاعْلَمُ أَنَّ الْحَقِّ لَا يَأْتي اس کا جواب یہ ہے کہ تو جان لے ! کہ حق یکدم نہیں آیا