تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 375
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۷۵ سورة البقرة عِنْدَ نُزُولِ رَبِّ الْعَرْشِ إِلَى الْأَرْضِ فَإِذَا کے زمین پر نزول فرمانے کے وقت پیچھے رہ جائے۔تَقَرَّرَ هَذَا فَيَلْزَمُ مِنْهُ أَنْ تَبقى كُلُّ سَمَاءٍ اور جب یہ ثابت ہو گیا تو اس سے یہ بھی لازم آیا کہ عرش من الْعَرْشِ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا خَالِيَةٌ سے لے کر سماء الدنیا تک ہر آسمان اللہ تعالیٰ کے زمین پر عِندَ نُزُولِ اللهِ تَعَالَى عَلَى الْأَرْضِ لَيْسَ نزول فرما ہوتے وقت خالی ہو جائے۔نہ اس میں رب رحیم اور فِيهَا رَبِّ رَحِيمٌ رَبُّ الْعَرْشِ وَلَا مَلَكَ ربّ العرش ہو اور نہ فرشتوں میں سے کوئی فرشتہ اور جیسا کہ مِنَ الْمَلائِكَةِ وَاللَّازِمُ بَاطِل فَالْمَلْرُوهُ غور و فکر کرنے والوں پر مخفی نہیں کہ ( جب ) لازم باطل مِثْلُهُ كَمَا لَا يَخْفَى عَلَى الْمُتَفَكِّرِيْنَ ہو تو ملزوم بھی ویسے ہی (باطل) ہوگا۔(ترجمہ از مرتب ) ( حمامة البشرى ، روحانی خزائن جلدے صفحہ ۲۸۲) أَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَأْتِكُمْ مَثَلُ الَّذِيْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ مَسَتْهُمُ الْبَاسَاءُ وَالضَّرَاءُ وَ زُلْزِلُوا حَتَّى يَقُولَ الرَّسُولُ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ مَتى نَصْرُ اللهِ أَلاَ إِنَّ نَصْرَ اللهِ قَرِيبٌ۔۲۱۵ ط لوگوں کا یہ خیال خام ہے کہ فلاں شخص فلاں کے پاس جا کر بلا مجاہد ہو تزکیہ ایک دم میں صدیقین میں داخل ہو گیا۔قرآن کو دیکھو کہ خدا کس طرح تم پر راضی ہو؟ جب تک نبیوں کی طرح تم پر مصائب و زلازل نہ آویں، جنہوں نے بعض وقت تنگ آکر یہ بھی کہہ دیا: حَتَّى يَقُولَ الرَّسُولُ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَةَ مَتَى نَصْرُ اللهِ أَلاَ إِنَّ نَصْرَ اللهِ قَرِيبٌ ( البقرة : ۲۱۵) اللہ کے بندے ہمیشہ بلاؤں میں ڈالے گئے۔پھر خدا نے اُن رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ء صفحہ ۴۳) کو قبول کیا۔الا إِنَّ نَصْرَ اللهِ قَرِيب ( البقرة : ۲۱۵) یا درکھو کہ خدا کی مدد بہت ہی قریب ہے۔( براہین احمدیہ چہار صص، روحانی خزائن جلد ا صفحه ۲۵۸ حاشیہ نمبر ۱۱) ( مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحه ۵۹) خدا کی رحمت اس ابتلاء کے دنوں کے بعد جلد آئے گی۔( أنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ - ) مسلمانوں کا بہشت صرف جسمانی بہشت نہیں بلکہ دیدار الہی کا گھر ہے اور دونوں قسم کی سعادتوں روحانی اور جسمانی کی جگہ ہے، ہاں ! عیسائی صاحبوں کا دوزخ محض جسمانی ہے۔(حجۃ الاسلام، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۴۷) خدا تعالیٰ یہ بھی فرماتا ہے کہ بہشت کی نعمتیں فوق الفہم ہیں تمہیں ان کا حقیقی علم نہیں دیا گیا اور تم وہ نعمتیں