تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 377 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 377

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۷۷ سورة البقرة دَفْعَةً بَلْ يَأْتِ تَدْرِيجا، وَفِي الْعَيْنِي عَنِ ابْنِ کرتا بلکہ تدریجا آتا ہے۔اور عینی (عمدۃ القاری فی عَبَّاس : يُقِيمُ عِيسَى يَسْعَ عَشَرَ سَنَةٌ شرح البخاری ) میں ابن عباس سے روایت ہے کہ عیسی لا يَكُونُ أَمِيرًا وَلَا شَرْطِئًا وَلَا مَلِكًا وَقَدْ اُنیس سال قیام کریں گے۔وہ نہ تو امیر ہوں گے، نہ مَضَتُ عَلى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ حالم اور نہ ہی بادشاہ۔اور رسول اللہ پر مکہ میں تیرہ سال وَسَلَّمَ ثَلَاثَ عَشَرَ سَنَةٌ في مَكَّةَ وَمَا لحق کا عرصہ گزرا اور اس مدت میں آپ کے ساتھ کمزوروں يه في هذِهِ الْمُدَّةِ إِلَّا فِئَةٌ قَلِيْلَةٌ ممن کا صرف ایک چھوٹا سا گروہ شامل ہوا تھا۔اور تورات الْمَسَاكِيْنَ وَكَانَ مِنْ بَعْضٍ عَلَامَاتِهِ میں لکھی ہوئی حضور کی بعض علامات میں سے روم، شام الْمَكْتُوبَةِ فِي التَّوْرَاةِ فَتْحُ الرُّوْمِ وَالشَّامِ اور فارس کے علاقوں کا فتح ہونا تھا۔لیکن یہ ( فتوحات) وَبِلَادِ فَارِسَ فَمَا عَايَنَهَا النَّاسُ فِي وَقْتِ لوگوں نے آپ کی زندگی میں نہیں دیکھیں اور نہ ہی قوم حَيَاتِهِ، وَمَا تَبِعَه جَمُوعٌ كَثِيرَةٌ مِنْ كُلِّ اور ملک کے بڑے بڑے گروہوں نے آپ کی پیروی قَوْمٍ وَمُلْكٍ إِلَّا بَعْدَ انْتِقَالِهِ إِلى رَفِيقِهِ کی یہاں تک کہ آپ رفیق اعلیٰ سے جاملے۔بلکہ آپ الْأَعْلى، بَلْ مَا رَأَى فِي أَوَائِلِ زَمَانِهِ إِلَّا نے اپنے اوائل زمانہ میں مصیبت پر مصیبت کے سوا کچھ مُصِيبَةً عَلَى مُصِيبَةٍ، وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَه نہ دیکھا اور جو لوگ آپ پر ایمان لاتے تھے اُنہیں بھی أذَاهُمُ الْقَوْمُ إيذاء كَثِيرًا وَ عَيّرُوهُمْ قوم نے بہت اذیت دی اُن پر الزام تراشی کی ، انہیں وَظَردُوهُمْ وَقَالُوا عَلَيْهِمْ كُلَّ كَلِمَةٍ دھتکارا اور ان کے خلاف جھوٹ بولتے ہوئے ہر طرح شَرِيرَةٍ كَاذِبِينَ وَهَكَذَا طَرَحُوا الْأَنْبِيَاءِ کی شرانگیز باتیں کیں۔اور اسی طرح تمام انبیاء كُلَّهُمْ وَمَسعُهُمُ الْبَأْسَاء وَالضَّرَّاء في دھتکارے گئے اور اُن کو اُن کے زمانے کے اوائل میں أَوَائِلِ زَمَانِهِمْ، فَمَضَتْ عَلى ذلِكَ الْإِبتلاء دکھ اور تکلیفیں پہنچیں۔اور اس ابتلا پر ایک طویل مدت مُدَّةً طَوِيْلَةً حَتَّى قَالُوا مَتى نَصُرُ اللهِ ، گزرگئی۔یہاں تک کہ وہ مَتَى نَصْرُ اللهِ پکار اٹھے۔فَهَلَكَ مَنْ كَانَ مِنَ الْهَالِكِينَ كَمَا قَالَ پھر یوں ہوا کہ ) جو ہلاک ہونے والوں میں سے تھے اللهُ تَعَالَى " أَمْ حَسِبْتُمْ أَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَ وہ ہلاک ہو گئے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے آمْ حَسِبْتُمْ لَمَّا يَأْتِكُم مَّثَلُ الَّذِينَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَأْتِكُمْ مَثَلُ الَّذِيْنَ خَلَوْا مِنْ مَسَّتْهُمُ الْبَاسَاء وَالضَّرَّاء وَزُلْزِلُوا حَتَّى قَبْلِكُمْ، مَشَتْهُمُ الْبَاسَاءُ وَالضَّرَّاء وَزُلْزِلُوا حَتَّى