تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 21
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۱ سورة البقرة فطرت انسانی کا ایک تقاضا ہے کہ اگر کوئی سائل اس کے پاس آجاوے تو کچھ نہ کچھ اسے ضرور دے دیتا ہے گھر میں دس روٹیاں موجود ہوں اور کسی سائل نے آ کر صدا کی تو ایک روٹی اس کو بھی دے دے گا یہ امر زیر ہدایت نہیں ہے بلکہ فطرت کا ایک طبعی خاصہ ہے۔اور یہ بھی یادر ہے کہ یہاں حِمَّا رَزَقْنُهُمْ يُنْفِقُونَ عام ہے اس سے کوئی خاص شے روپیہ پیسہ یا روٹی کپڑا مراد نہیں ہے بلکہ جو کچھ اللہ تعالیٰ نے عطا فرمایا ہے اس میں سے کچھ نہ کچھ خرچ کرتے رہتے ہیں۔انفاق کی دوصورتیں غرض یہ انفاق عام انفاق ہے اور اس کے لئے مسلمان یا غیر مسلمان کی بھی شرما نہیں۔اور اس لئے یہ انفاق دو قسم کا ہوتا ہے ایک فطرتی دوسرازیر اثر نبوت۔فطرتی تو وہی ہے جیسا کہ میں نے ابھی بیان کیا ہے کہ تم میں سے کون ہے اگر کوئی قیدی یا بھوکا آدمی جو کئی روز سے بھوکا ہو یا نگا ہو، آ کر سوال کرے اور تم اسے کچھ نہ کچھ دے نہ دو۔کیونکہ یہ امر فطرت میں داخل ہے اور یہ بھی میں نے بتا دیا ہے کہ مِمَّا رَزَقْنَهُمْ روپیہ پیسہ سے مخصوص نہیں خواہ جسمانی ہو یا علمی سب اس میں داخل ہے جو علم سے دیتا ہے وہ بھی اسی کے ماتحت ہے، مال سے دیتا ہے وہ بھی داخل ہے، طبیب ہے وہ بھی داخل ہے مگر بموجب منشاء هُدًى لِلْمُتَّقِينَ ابھی تک اس مقام تک نہیں پہنچا جہاں قرآن شریف اسے لے جانا چاہتا ہے اور وہ وہ مقام ہے کہ انسان اپنی زندگی ہی خدا تعالی کے لئے وقف کر دے اور یہ المی وقف کہلاتا ہے۔اس حالت اور مقام پر جب ایک شخص پہنچتا ہے تو اس میں منا رہتا ہی نہیں کیونکہ جب تک وہ مینا کی حد کے اندر ہے اس وقت تک وہ ناقص ہے اور اس علت غائی تک نہیں پہنچا جو قرآن مجید کی ہے لیکن کامل اسی وقت ہوتا ہے جب یہ حد نہ رہے اور اس کا وجود اس کا ہر فعل ہر حرکت و سکون محض اللہ تعالیٰ کے حکم اور اذان کے ماتحت بنی نوع کی بھلائی کے لئے وقف ہو۔دوسرے لفظوں میں یہ کہو کہ مِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ کا کمال یہی ہے جو هُدًى لِلْمُتَّقِينَ کے منشاء کے موافق ہے۔(الحکم نمبر ۳ جلد ۱۰ مورخه/ ۲۴ جنوری ۱۹۰۶ صفحه ۵،۴) اس کے بعد ایک اور صفت متقیوں کی بیان کی یعنی وہ والَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ کے موافق ایمان لاتے ہیں اور ایسا ہی جو کچھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے اللہ تعالیٰ نے نازل فرما یا اس پر بھی ایمان رکھتے ہیں۔لیکن اب سوال یہ ہے کہ اگر اتنا ہی ایمان ہے تو پھر ہدایت کیا ہے؟ وہ ہدایت یہ ہے کہ ایسا انسان خود اس قابل ہو جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس پر وحی اور الہام کا دروازہ کھولا جاتا ہے اور وہ