تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 20
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة البقرة کہا۔عرصہ کی بات ہے ایک برہمو اگنی ہوتری نے کہا تھا کہ لا إله إلا الله تو ہم بھی کہتے ہیں تم محمد رسُولُ اللہ کیوں کہتے ہو؟ ہم نے کہا تھا کہ اس کا فائدہ یہ ہے کہ انسان دو ہر یہ نہیں ہوتا۔چنانچہ اب وہ کھلا وہر یہ ہے۔اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر پورا ایمان ہوتا تو کیوں دہر یہ بنتا۔میں سچ کہتا ہوں کہ قرآن شریف ایسی کامل اور جامع کتاب ہے کہ کوئی کتاب اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔کیا وید میں کوئی ایسی شرقی ہے جو ھڈی لِلْمُتَّقِينَ کا مقابلہ کرے؟ اگر زبانی اقرار کوئی چیز ہے یعنی اس کے شمرات اور نتائج کی حاجت نہیں تو پھر تو ساری دنیا کسی نہ کسی رنگ میں خدا تعالیٰ کا اقرار کرتی ہے اور بھگتی عبادت ،صدقہ، خیرات کو بھی اچھا بجھتی ہے اور کسی نہ کسی صورت میں ان باتوں پر عمل بھی کرتی ہے پھر ویدوں نے آکر دنیا کو کیا بخشا ؟ یا تو یہ ثابت کرو کہ جو قو میں وید کو نہیں مانتی ہیں ان میں نیکیاں بالکل مفقود ہیں اور یا کوئی امتیازی نشان بتاؤ؟ قرآن شریف کو جہاں سے شروع کیا ہے ان ترقیوں کا وعدہ کر لیا ہے جو بالطبع روح تقاضا کرتی ہے۔چنانچہ سورۃ فاتحہ میں اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیم کی تعلیم کی اور فرمایا کہ تم یہ دعا کرو کہ اے اللہ ہم کوصراط مستقیم کی ہدایت فرما وہ صراط مستقیم جو ان لوگوں کی راہ ہے جن پر تیرے انعام واکرام ہوئے۔اس دُعا کے ساتھ ہی سورۃ البقرہ کی پہلی ہی آیت میں یہ بشارت دے دی ذلِك الكتبُ لَا رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ۔گویا روحیں دُعا کرتی ہیں اور ساتھ ہی قبولیت اپنا اثر دکھاتی ہے اور وہ وعدہ دعا کی قبولیت کا قرآن مجید کے نزول کی صورت میں پورا ہوتا ہے۔ایک طرف دُعا ہے اور دوسری طرف اس کا نتیجہ موجود ہے۔یہ خدا تعالیٰ کا فضل اور کرم ہے جو اس نے فرمایا مگر افسوس دنیا اس سے بے خبر اور غافل ہے اور اس سے دور رہ کر ہلاک ہورہی ہے۔میں پھر کہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ نے جو ابتدائے قرآن مجید میں متقیوں کے صفات بیان فرمائے ہیں ان کو معمولی صفات میں رکھا ہے۔لیکن جب انسان قرآن مجید پر ایمان لا کر اسے اپنی ہدایت کے لئے دستور العمل بناتا ہے تو وہ ہدایت کے ان اعلیٰ مدارج اور مراتب کو پالیتا ہے جو ھڈی لِلْمُتَّقِينَ میں مقصود رکھے ہیں قرآن شریف کی اس عِلتِ غائی کے تصور سے ایسی لذت اور سرور آتا ہے کہ الفاظ میں ہم اس کو بیان نہیں کر سکتے کیونکہ اس سے خدا تعالیٰ کے خاص فضل اور قرآن مجید کے کمال کا پتہ لگتا ہے۔پھر منتقی کی ایک اور علامت بیان فرمائی وَ مِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ یعنی جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔یہ ابتدائی حالت ہوتی ہے اور اس میں سب کے سب شریک ہیں کیونکہ عام طور پر یہ