تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 22 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 22

تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام ۲۲ سورة البقرة۔وحی الہی اس پر بھی اترتی ہے جس سے اس کا ایمان ترقی کر کے کامل یقین اور معرفت کے درجہ تک پہنچ جاتا ہے اور وہ اس ترقی کو پالیتا ہے جو ہدایت کا اصل مقصود تھا۔اس پر وہ انعام واکرام ہونے لگتے ہیں جو مکالمہ الہیہ سے ملتے ہیں۔یہ یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ نے وحی اور الہام کے دروازہ کو بند نہیں کیا جو لوگ اس اُمت کو الہام ووجی کے انعامات سے بے بہرہ ٹھہراتے ہیں وہ سخت غلطی پر ہیں اور قرآن شریف کے اصل مقصد کو انہوں نے سمجھا ہی نہیں۔ان کے نزدیک یہ امت وحشیوں کی طرح ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تاثیرات اور برکات کا معاذ اللہ خاتمہ ہو چکا اور وہ خدا جو ہمیشہ سے متکلم خدا رہا ہے اب اس زمانہ میں آکر خاموش ہو گیا۔وہ نہیں جانتے کہ اگر مکالمه مخاطبہ نہیں تو هُدًى لِلْمُتَّقِينَ کا مطلب ہی کیا ہوا۔بغیر مکالمہ مخاطبہ کے تو اس کی ہستی پر کوئی دلیل قائم نہیں ہو سکتی اور پھر قرآن شریف میں یہ کیوں کہا: وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا (العنکبوت: ۷۰) اور ایک دوسرے مقام پر فرمایا: إِنَّ الَّذِيْنَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَيكَةُ اَلا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا (حم السجدة : ۳۱) یعنی جن لوگوں نے اپنے قول اور فعل سے بتا دیا کہ ہمارا رب اللہ ہے اور پھر انہوں نے استقامت دکھائی ان پر فرشتوں کا نزول ہوتا ہے۔اب یہ تو نہیں ہوسکتا کہ فرشتوں کا نزول ہو اور مخاطبہ نہ ہو۔نہیں بلکہ وہ انہیں بشارتیں دیتے ہیں۔یہی تو اسلام کی خوبی اور کمال ہے جو دوسرے مذاہب کو حاصل نہیں ہے۔استقامت بہت مشکل چیز ہے یعنی اور۔خواہ ان پر زلزلے آئیں فتنے آئیں وہ ہر قسم کی مصیبت اور دکھ میں ڈالے جاویں مگر ان کی استقامت میں فرق نہیں آتا۔ان کا اخلاص اور وفاداری پہلے سے زیادہ ہوتی ہے ایسے لوگ اس قابل ہوتے ہیں کہ ان پر خدا کے فرشتے اُتریں اور انہیں بشارت دیں کہ تم کوئی غم نہ کرو۔یہ یقیناً یا درکھو کہ وحی اور الہام کے سلسلہ کے متعلق خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں اکثر جگہ وعدے کئے ہیں اور یہ اسلام ہی سے مخصوص ہے۔ورنہ عیسائیوں کے ہاں بھی مہر لگ چکی ہے وہ اب کوئی شخص ایسا نہیں بتا سکتے جو اللہ تعالیٰ کے مخاطبہ مکالمہ سے مشرف ہو۔اور ویدوں پر تو پہلے ہی سے مہر لگی ہوئی ہے ان کا تو مذہب ہی یہی ہے کہ ویدوں کے الہام کے بعد پھر ہمیشہ کے لئے یہ سلسلہ بند ہو گیا گویا خدا پہلے بھی بولا تھا مگر اب وہ گونگا ہے۔میں کہتا ہوں کہ اگر وہ اس وقت کلام نہیں کرتا اور کوئی اس کے اس فیض سے بہرہ ور نہیں تو اس کا کیا ثبوت ہے کہ وہ پہلے بولتا تھا اور یا اب وہ سنتا اور دیکھتا بھی ہے؟ مجھے افسوس ہوتا ہے جب میں مسلمانوں کے منہ سے اس قسم کے الفاظ نکلتے سنتا ہوں کہ اب مخاطبہ مکالمہ کی نعمت کسی کو نہیں مل سکتی۔یہ کیوں عیسائیوں یا آریوں کی طرح مہر لگاتے