تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 360 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 360

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۶۰ سورة البقرة دے اور معصیت سے بچائے رکھے۔خوب یا درکھو کہ لفظوں سے کچھ کام نہیں بنے گا اپنی زبان میں بھی استغفار ہوسکتا ہے کہ خدا پچھلے گناہوں کو معاف کرے اور آئندہ گناہوں سے محفوظ رکھے اور نیکی کی توفیق دے اور یہی حقیقی استغفار ہے کچھ ضرورت نہیں کہ یونہی استغفر الله استغفر الله ! کہتا پھرے اور دل کو خبر تک نہ ہو۔یادرکھو کہ خدا تک وہی بات پہنچتی ہے جو دل سے نکلتی ہے۔اپنی زبان میں ہی خدا سے بہت دُعائیں مانگنی چاہئیں۔اس سے دل پر بھی اثر ہوتا ہے۔زبان تو صرف دل کی شہادت دیتی ہے اگر دل میں جوش پیدا ہو اور زبان بھی ساتھ مل جائے تو اچھی بات ہے بغیر دل کے صرف زبانی دُعا ئیں عبث ہیں، ہاں ! دل کی دُعائیں اصلی دُعائیں ہوتی ہیں۔جب قبل از وقت بلا انسان اپنے دل ہی دل میں خدا سے دُعائیں مانگتا رہتا ہے اور استغفار کرتا رہتا ہے۔تو پھر خداوند رحیم و کریم ہے وہ بلائل جاتی ہے لیکن جب بلا نازل ہو جاتی ہے پھر نہیں ٹلا کرتی۔بلا کے نازل ہونے سے پہلے دُعائیں کرتے رہنا چاہئے اور بہت استغفار کرنا چاہئے اس طرح سے خدا بلا کے وقت محفوظ الحکم جلد ۱۱ نمبر ۳۴ مورخه ۲۴ ستمبر ۱۹۰۷ء صفحه ۴) استغفار کے معنی یہ ہیں کہ خدا سے اپنے گذشتہ جرائم اور معاصی کی سزا سے حفاظت چاہنا اور آئندہ رکھتا ہے۔گناہوں کے سرزد ہونے سے حفاظت مانگنا۔استغفارا انبیاء بھی کیا کرتے ہیں اور عوام بھی۔بعض نادان پادریوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے استغفار پر اعتراض کیا ہے اور لکھا ہے کہ اُن کے استغفار کرنے سے نعوذ باللہ! آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا گناہ کا ہونا ثابت ہوتا ہے۔یہ نادان اتنا نہیں سمجھتے کہ استغفار تو ایک اعلیٰ صفت ہے انسان فطرتاً ایسا بنا ہے کہ کمزوری اور ضعف اس کا فطری تقاضا ہے۔انبیاء اس فطرتی کمزوری اور ضعف بشریت سے خوب واقف ہوتے ہیں۔لہذا وہ دُعا کرتے ہیں کہ یا الہی تو ہماری ایسی حفاظت کر کہ وہ بشری کمزوریاں ظہور پذیر ہی نہ ہوں۔غفر کہتے ہیں ڈھکنے کو۔اصل بات یہی ہے کہ جو طاقت خدا کو ہے وہ نہ کسی نبی کو ہے، نہ ولی کو اور نہ رسول کو۔کوئی دعوی نہیں کر سکتا کہ میں اپنی طاقت سے گناہ سے بچ سکتا ہوں۔پس انبیاء بھی حفاظت کے واسطے خدا کے محتاج ہیں پس اظہار عبودیت کے واسطے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی اور انبیاء کی طرح اپنی حفاظت خدا سے مانگا کرتے تھے۔۔۔۔استغفار ایک عربی لفظ ہے۔اس کے معنے ہیں: طلب مغفرت کرنا۔کہ یا الہی ! ہم سے پہلے جو گناہ سرزد ہو چکے ہیں۔ان کے بدنتائج سے ہمیں بچا کیونکہ گناہ ایک زہر ہے اور اس کا اثر بھی لازمی ہے۔اور آئندہ ایسی