تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 359
۳۵۹ سورة البقرة تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام گناہ جو انسان سے صادر ہوتا ہے اگر انسان یقین سے تو بہ کرے تو خدا بخش دیتا ہے۔پیغمبر خدا جو ستر بار استغفار کرتے تھے حالانکہ ایک دفعہ کے استغفار سے گذشتہ گناہ معاف ہو سکتے تھے پس اس سے ثابت ہے کہ استغفار کے یہ معنے ہیں کہ خدا آئندہ ہر ایک غفلت اور گناہ کو دبائے رکھے۔اس کا صدور بالکل نہ ہو۔البدر جلد ۲ نمبر ۲۲ مورخه ۱۹ جون ۱۹۰۳ صفحه ۱۶۹) تو بہ واستغفار کرنی چاہئے۔بغیر توبہ استغفار کے انسان کر ہی کیا سکتا ہے؟ سب نبیوں نے یہی کہا ہے کہ اگر تو بہ واستغفار کرو گے تو خدا بخش دے گا۔سونمازیں پڑھو اور آئندہ گناہوں سے بچنے کے لئے خدا تعالیٰ سے مدد چاہو اور پچھلے گناہوں کی معافی مانگو اور بار بار استغفار کرو تا کہ جو قوت گناہ کی انسان کی فطرت میں ہے وہ ظہور میں نہ آوے۔انسان کی فطرت میں دو طرح کا ملکہ پایا جاتا ہے ایک تو کسب خیرات اور نیک کاموں کے کرنے کی قوت ہے اور دوسرے بڑے کاموں کو کرنے کی قوت اور ایسی قوت کو روکے رکھنا یہ خدا تعالیٰ کا کام ہے اور یہ قوت انسان کے اندر اس طرح سے ہوتی ہے جس طرح کہ پتھر میں ایک آگ کی قوت ہے اور استغفار کے یہی معنی ہیں کہ ظاہر میں کوئی گناہ سرزد نہ ہو اور گناہوں کے کرنے والی قوت ظہور میں نہ آوے۔انبیاء کے استغفار کی بھی یہی حقیقت ہے کہ وہ ہوتے تو معصوم ہیں مگر وہ استغفار اس واسطے کرتے ہیں کہ تا آئندہ وہ قوت ظہور میں نہ آوے۔اور عوام کے واسطے استغفار کے دوسرے معنے بھی لئے جاویں گے کہ جو جرائم اور گناہ ہو گئے ہیں ان کے بدنتائج سے خدا بچائے رکھے اور ان گناہوں کو معاف کر دے اور ساتھ ہی آئندہ گناہوں سے محفوظ رکھے۔۔بہر حال یہ انسان کے لئے لازمی امر ہے کہ وہ استغفار میں ہمیشہ مشغول رہے۔یہ جو قحط اور طرح طرح کی بلائیں دنیا میں نازل ہوتی ہیں۔ان کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ لوگ استغفار میں مشغول ہوجائیں مگر استغفارکا یہ مطلب نہیں ہے جو استغفر الله استغفر الله ! کہتے رہیں۔اصل میں غیر ملک کی زبان کے سبب لوگوں سے حقیقت چھپی رہی ہے۔عرب کے لوگ تو ان باتوں کو خوب سمجھتے تھے مگر ہمارے ملک میں غیر زبان کی وجہ سے بہت سی حقیقتیں مخفی رہی ہیں بہت سے لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم نے اتنی دفعہ استغفار کیا۔سوتسبیح یا ہزار تسبیح پڑھی۔مگر جو استغفار کا مطلب اور معنے پوچھو تو بس کچھ نہیں ہکا بکا رہ جاویں گے انسان کو چاہئے کہ حقیقی طور پر دل ہی دل میں معافی مانگتا ہے کہ وہ معاصی اور جرائم جو مجھ سے سرزد ہو چکے ہیں ان کی سزا نہ بھگتنی پڑے اور آئندہ دل ہی دل میں ہر وقت خدا سے مدد طلب کرتا رہے کہ آئندہ نیک کام کرنے کی توفیق