تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 361 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 361

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة البقرة حفاظت کر کہ گناہ ہم سے سرزد ہی نہ ہوں۔صرف زبانی تکرار سے مطلب حاصل نہیں ہوتا۔۔۔پس چاہئے کہ تو بہ استغفار منتر جنتر کی طرح نہ پڑھو بلکہ ان کے مفہوم اور معانی کو مد نظر رکھ کر تڑپ اور کچی پیاس سے خدا کے حضور دعائیں کرو۔الحکم جلد ۱۲ نمبر ۳۴ مورخه ۱۸ مئی ۱۹۰۸ صفحه ۳) خدا نے اپنی آسمانی بادشاہت میں فرشتوں کو کوئی اختیار نہیں دیا۔۔۔۔لیکن انسانی فطرت کو قبول عدمِ قبول کا اختیار دیا گیا ہے اور چونکہ یہ اختیار اوپر سے دیا گیا ہے اس لئے نہیں کہہ سکتے کہ فاسق انسان کے وجود سے خدا کی بادشاہت زمین سے جاتی رہی بلکہ ہر رنگ میں خدا کی ہی بادشاہت ہے ہاں صرف قانون دو ہیں۔ایک آسمانی فرشتوں کے لئے قضا و قدر کا قانون ہے کہ وہ بدی کر ہی نہیں سکتے اور ایک زمین پر انسانوں کے لئے ، خدا کے قضاء و قدر کے متعلق ہے اور وہ یہ کہ آسمان سے اُن کو بدی کرنے کا اختیار دیا گیا ہے مگر جب خدا سے طاقت طلب کریں یعنی استغفار کریں تو روح القدس کی تائید سے ان کی کمزوری دور ہوسکتی ہے اور وہ گناہ کے ارتکاب سے بچ سکتے ہیں جیسا کہ خدا کے نبی اور رسول بیچتے ہیں۔اور اگر ایسے لوگ ہیں کہ گنہ گار ہو چکے ہیں تو استغفار ان کو یہ فائدہ پہنچاتا ہے کہ گناہ کے نتائج سے یعنی عذاب سے بچائے جاتے ہیں کیونکہ نور کے آنے سے ظلمت باقی نہیں رہ سکتی۔اور جرائم پیشہ جو استغفار نہیں کرتے یعنی خدا سے طاقت نہیں مانگتے وہ اپنے جرائم کی سزا پاتے رہتے ہیں۔کشتی نوح ، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۳۴) آدمی کو لازم ہے کہ تو بہ واستغفار میں لگا رہے اور دیکھتا رہے کہ ایسا نہ ہو بد اعمالیاں حد سے گذر جاویں اور خدا تعالیٰ کے غضب کو کھینچ لاو میں جب خدا تعالی کسی پر فضل کے ساتھ نگاہ کرتا ہے تو عام طور پر دلوں میں اُس کی محبت کا القا کر دیتا ہے لیکن جس وقت انسان کا شتر حد سے گذر جاتا ہے اُس وقت آسمان پر اُس کی مخالفت کا ارادہ ہوتے ہی اللہ تعالیٰ کے منشاء کے موافق لوگوں کے دل سخت ہو جاتے ہیں مگر جو نبی وہ توبہ واستغفار کے ساتھ خدا کے آستانہ پر گر کر پناہ لیتا ہے تو اندر ہی اندر ایک رحم پیدا ہو جاتا ہے اور کسی کو پتہ بھی نہیں لگتا کہ اُس کی محبت کا بیج لوگوں کے دلوں میں بو دیا جاتا ہے۔غرض تو بہ واستغفار کا ایسا مجرب نسخہ ہے کہ خطا نہیں جاتا۔الحکم جلد ۳ نمبر ۱۷ مورخه ۱۲ مئی ۱۸۹۹ صفحه ۵) میرے نزدیک تو استغفار سے بڑھ کر کوئی تعویذ وحرز اور کوئی احتیاط و دوا نہیں۔میں تو اپنے دوستوں کو کہتا ہوں کہ خدا سے صلح و موافقت پیدا کرو اور دعاؤں میں مصروف رہو۔الحکم جلد ۳ نمبر ۲۳ مورخه ۳۰/جون ۱۸۹۹ صفحه ۵)