تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 352
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۵۲ سورة البقرة محسنین کو دوست رکھتا ہے۔شہادت القرآن ، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۳۳۶) یعنی خود کشی نہ کرو اور اپنے ہاتھوں سے اپنی موت کے باعث نہ ٹھہر واور یہ ظاہر ہے کہ اگر مثلاً خالد کے پیٹ میں درد ہو اور زید اس پر رحم کر کے اپنا سر پھوڑے تو زید نے خالد کے حق میں کوئی نیکی کا کام نہیں کیا بلکہ اپنے سرکو احمقانہ حرکت سے ناحق پھوڑا۔نیکی کا کام تب ہوتا کہ جب زید خالد کی خدمت میں مناسب اور مفید طریق کے ساتھ سرگرم رہتا اور اس کے لئے عمدہ دوائیں میتر کرتا اور طبابت کے قواعد کے موافق اس کا علاج کرتا۔مگر اس کے سر کے پھوڑنے سے زید کو تو کوئی فائدہ نہ پہنچا۔ناحق اس نے اپنے وجود کے ایک شریف عضو کو دکھ پہنچایا۔قوم کی راہ میں جان دینے کا حکیمانہ طریق یہی ہے کہ قوم کی بھلائی کے لئے قانون قدرت کی مفید راہوں کے موافق اپنی جان پر سختی اٹھا دیں اور مناسب تدبیروں کے بجالانے سے اپنی جان ان پر فدا کر دیں نہ یہ کہ قوم کو سخت بلا یا گمراہی میں دیکھ کر اور خطرناک حالت میں پا کر اپنے سر پر پتھر مارلیں یا دو تین رتی اسٹر کنیا " کھا کر اس جہان سے رخصت ہو جائیں اور پھر گمان کریں کہ ہم نے اپنی اس حرکت بیجا سے قوم کو نجات دے دی ہے۔یہ مردوں کا کام نہیں ہے، زنانہ خصلتیں ہیں اور بے حوصلہ لوگوں کا ہمیشہ سے یہی طریق ہے کہ مصیبت کو قابل برداشت نہ پا کر جھٹ پٹ خود کشی کی طرف دوڑتے ہیں۔ایسی خود کشی کی ، گو بعد میں کتنی ہی تاویلیں کی جائیں مگر یہ حرکت بلاشبہ عقل اور عقلمندوں کا ننگ ہے۔مگر ظاہر ہے کہ ایسے شخص کا صبر اور دشمن کا مقابلہ نہ کرنا معتبر نہیں ہے جس کو انتقام کا موقعہ ہی نہ ملا کیونکہ کیا معلوم ہے کہ اگر وہ انتقام پر قدرت پاتا تو کیا کچھ کرتا ؟ جب تک انسان پر وہ زمانہ نہ آوے جو ایک مصیبتوں کا زمانہ اور ایک مقدرت اور حکومت اور ثروت کا زمانہ ہو۔اس وقت تک اس کے بچے اخلاق ہر گز ظاہر نہیں ہو سکتے۔صاف ظاہر ہے کہ جو شخص صرف کمزوری اور ناداری اور بے اقتداری کی حالت میں لوگوں کی ماریں کھا تا مر جاوے اور اقتدار اور حکومت اور ثروت کا زمانہ نہ پاوے۔اس کے اخلاق میں سے کچھ بھی ثابت نہ ہوگا۔اور اگر کسی میدان جنگ میں حاضر نہیں ہوا تو یہ بھی ثابت نہیں ہو گا کہ وہ دل کا بہادر تھا یا بزدل۔اس کے اخلاق کی نسبت ہم کچھ نہیں کہہ سکتے۔(اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۴۴۸ تا ۴۵۰) ایک شخص نے دریافت کیا کہ میرے اہل خانہ اور بچے ایک ایسے مقام میں ہیں جہاں طاعون کا زور ہے میں گھبرایا ہوا ہوں اور وہاں جانا چاہتا ہوں فرمایا: مت جاؤ۔وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ پچھلی رات کو اٹھ کر اُن کے لئے دُعا کرو یہ بہتر ہوگا۔وو * Strychnia کچلہ۔ناشر