تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 353 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 353

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۵۳ سورة البقرة بہ نسبت اس کے کہ تم خود جاؤ۔ایسے مقام پر جانا گناہ ہے۔“ (الحکم جلد ۶ نمبر ۱۵ مورخه ۲۴ را پریل ۱۹۰۲ صفحه ۸) سوال ہوا کہ بعض باتیں واقع میں صحیح ہوتی ہیں مگر مصلحت وقت اور قانون ان کے اظہار کا مانع ہوتا ہے تو کیا ہم لَا تَكْتُمُوا الشَّهَادَةً کے موافق ظاہر کر دیا کریں؟ فرمایا: یہ بات اس وقت ہوتی ہے جب آدمی آزاد بالطبع ہو۔دوسری جگہ یہ بھی تو فرمایا ہے: لَا تُلْقُوا بِاید یکم إلَى التَّهْلُكَةِ قانون کی پابندی ضروری شے ہے۔جب قانون روکتا ہے تو رکنا چاہئے جب کہ بعض جگہ اخفاء ایمان بھی کرنا پڑتا ہے تو جہاں قانون بھی مانع ہو وہاں کیوں اظہار کیا جاوے؟ جس راز کے اظہار سے خانہ بر بادی اور تباہی آتی ہو وہ اظہار کرنا منع ہے۔الحکم جلدے نمبر ۱۵ مورخه ۱/۲۴ پریل ۱۹۰۳ء صفحه ۱۰) سرحد کے پٹھانوں کو یہ بھی ایک خبط سمایا ہوا ہے کہ وہ انگریز افسروں پر آ کر حملے کرتے ہیں اور اپنی شوریدہ سری سے اسلام کو بدنام کرتے ہیں۔انہوں نے سمجھ لیا ہے کہ اگر ہم کسی کافر یا غیر مذہب والے کو ہلاک کر دیں گے تو ہم غازی ہوں گے اور اگر مارے جاویں گے تو شہید ہوں گے۔مجھے ان کمینہ فطرت ملانوں پر بھی افسوس ہے جو ان شوریدہ سر پٹھانوں کو اکساتے ہیں وہ انہیں نہیں بتاتے کہ تم اگر کسی شخص کو بلا وجہ قوی قتل کرتے ہو تو غازی نہیں ظالم ٹھہرتے ہو اور اگر وہاں ہلاک ہو جاتے ہو تو شہید نہیں بلکہ خود کشی کر کے حرام موت مرتے ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے : لَا تُلْقُوا بِايْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ وہ اپنے آپ کو خود ہلاکت میں ڈالتے ہیں اور فساد کرتے ہیں۔میں یقین رکھتا ہوں کہ وہ سخت سزا کے مستوجب ہیں۔الحکم جلد ۹ نمبر ۱۸ مورخه ۲۴ رمئی ۱۹۰۵ صفحه ۸) رشوت ہرگز نہیں دینی چاہئے ، یہ سخت گناہ ہے مگر میں رشوت کی یہ تعریف کرتا ہوں کہ جس سے گورنمنٹ یا دوسرے لوگوں کے حقوق تلف کئے جاویں۔میں اس سے سخت منع کرتا ہوں لیکن ایسے طور پر کہ بطور نذرانہ یا ڈالی اگر کسی کو دی جاوے جس سے کسی کے حقوق کے اتلاف مد نظر نہ ہو بلکہ اپنی حق تلفی اور شر سے بچنا مقصود ہو تو یہ میرے نزدیک منع نہیں اور میں اس کا نام رشوت نہیں رکھتا کسی کے ظلم سے بچنے کو شریعت منع نہیں کرتی بلکہ لا تُلْقُوا بِايِّدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ فرمایا ہے۔الحکم جلد ۶ نمبر ۲۹ مورخه ۱۷ /اگست ۱۹۰۲ صفحه ۹) شریعت اور الہامی اور کشفی امور الگ الگ ہیں اس لیے ان کو شریعت کے ظاہری الفاظ کے تابع نہ کرنا چاہیے۔وحی الہی کا معاملہ ہی اور ہوتا ہے اس کی ایک دو نظیر میں نہیں بلکہ ہزار ہا نظائر ہیں بعض وقت ایک ملہم کو الہام کی رو سے ایسے احکام بتلائے جاتے ہیں کہ شریعت کی رو سے ان کی بجا آوری درست نہیں ہوتی۔مگر جسے بتلائے جاتے ہیں اسے ان کا بجالا نا فرض ہوتا ہے۔اور عدم بجا آوری میں اسے موت نظر آتی ہے اور