تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 351 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 351

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۵۱ سورة البقرة کی ہو جائے۔اس سے کہاں جبر نکلتا ہے۔اس سے تو صرف اس قدر پایا جاتا ہے کہ اُس حد تک لڑو کہ اُن کا زور ٹوٹ جائے اور شرارت اور فساد اُٹھ جائے اور بعض لوگ جیسے خفیہ طور پر اسلام لائے ہوئے ہیں ظاہر بھی اسلامی احکام ادا کر سکیں۔اگر اللہ جل شانہ کا ایمان بالجبر منشاء ہوتا تو پھر جزیہ اور صلح اور معاہدات کیوں جائز رکھے جاتے اور کیا وجہ تھی کہ یہود اور عیسائیوں کے لئے یہ اجازت دی جاتی کہ وہ جزیہ دے کر امن میں آجائیں اور مسلمانوں کے زیر سایہ امن کے ساتھ بسر کریں۔(جنگ مقدس ، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۲۶۳) بعض لوگ جن کو حق کے ساتھ دشمنی ہوتی ہے۔جب ایسی تعلیم سنتے ہیں تو اور کچھ نہیں تو یہی اعتراض کر دیتے ہیں کہ اسلام میں اگر ہمدردی کی تعلیم ہوتی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم لڑائیاں کیوں کرتے وہ نادان اتنا نہیں سمجھتے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو جنگ کئے وہ تیرہ برس تک خطر ناک دُکھ اور تکلیف پر تکلیف اُٹھانے کے بعد کئے اور وہ بھی صرف مدافعت کے طور پر۔تیرہ برس تک ان کے ہاتھوں سے آپ تکالیف اُٹھاتے رہے۔ان کے عزیز دوست اور یاروں کو سخت سخت عذاب دیا جاتارہا اور جور و ظلم کا کوئی بھی ایسا پہلو نہ رہا جو کہ مخالفوں نے اُن کے لئے نہ برتا ہو یہاں تک کہ کئی مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں اُن کے ہاتھ سے شہید بھی ہو گئے اور اُن کے ہر وقت کے ایسے شدید ظلموں سے تنگ آ کر بحکم الہی شہر بھی چھوڑنا پڑا۔جب مدینہ منورہ کو تشریف لے گئے اور وہاں بھی ان ظالموں نے پیچھا نہ چھوڑا۔جب اُن کے ظلموں اور شرارتوں کی بات انتہا تک پہنچ گئی تو خدا تعالیٰ نے مظلوم قوم کو اس مظلومانہ حالت میں مقابلہ کا حکم دیا اور وہ بھی اس لئے کہ شریر اپنی شرارت سے باز آجاویں اور ان کی شرارت سے مخلوق خدا کو بچایا جاوے اور ایک حق پرست قوم اور دین حق کے لئے ایک راہ کھل جاوے۔تقریریں صفحہ ۲۸ ، تقریر حضرت اقدس جلسه سالانه ۲۹ / دسمبر ۱۹۰۴ طبع اوّل ) اَلشَّهُرُ الْحَرَامُ بِالشَّهْرِ الْحَرَامِ وَالْحُرُمَتُ قِصَاصُ فَمَنِ اعْتَدَى عَلَيْكُمْ فَاعْتَدُوا ص (۱۹۵) عَلَيْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدَى عَلَيْكُمْ وَاتَّقُوا اللهَ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللهَ مَعَ الْمُتَّقِينَ خدا کی محبت متقی کے ساتھ ہوتی ہے۔اِنَّ اللهَ مَعَ الْمُتَّقِينَ۔(احکم جلد ۴ نمبر ۴۶ مورخہ ۲۴ دسمبر ۱۹۰۰ صفحه ۳) وَ أَنْفِقُوا فِي سَبِيلِ اللهِ وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ وَ اَحْسِنُوا ۚ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ ۱۹۶ اور تم خدا کی راہ میں خرچ کرو اور دانستہ اپنے تئیں ہلاکت میں مت ڈالو۔اور لوگوں سے احسان کرو کہ خدا