تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 350
۳۵۰ سورة البقرة تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام خدا تعالی قرآن شریف میں فرماتا ہے کہ جس طرح اور جن آلات سے کفار لوگ تم پر حملہ کرتے ہیں انہی طریقوں اور آلات سے تم ان لوگوں کا مقابلہ کرو۔اب ظاہر ہے کہ ان لوگوں کے حملے اسلام پر تلوار سے نہیں ہیں بلکہ قلم سے ہیں لہذا ضرور ہے کہ ان کا جواب قلم سے دیا جاوے اگر تلوار سے دیا جاوے گا تو یہ اعتدا ہوگا جس سے خدا تعالیٰ کی صریح ممانعت قرآن شریف میں موجود ہے : إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ - الحکم جلد ۹ نمبر۷ مورخہ ۲۴ فروری ۱۹۰۵ صفحه ۲) کثرت ازدواج سے متعلق صاف الفاظ قرآن کریم میں دو دو، تین تین، چار چار کر کے ہی آئے ہیں مگر اسی آیت میں اعتدال کی بھی ہدایت ہے۔اگر اعتدال نہ ہو سکے اور محبت ایک طرف زیادہ ہو جاوے یا آمدنی کم ہو۔اور یا قوائے رجولیت ہی کمزور ہوں تو پھر ایک سے تجاوز نہیں کرنا چاہیے۔ہمارے نزدیک یہی بہتر ہے کہ انسان اپنے تئیں ابتلاء میں نہ ڈالے، کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ۔حلال پر بھی ایسا زور نہ مارو کہ نفس پرست ہی بن جاؤ۔غرض اگر حلال کو حلال سمجھ کر انسان بیو یوں ہی کا بندہ ہو جائے تو بھی غلطی کرتا ہے۔ہر ایک شخص اللہ تعالی کی منشاء کو نہیں سمجھ سکتا۔اس کا یہ منشا نہیں کہ بالکل زن مرید ہو کر نفس پرست ہی ہو جاؤ اور وہ یہ بھی نہیں چاہتا کہ رہبانیت اختیار کرو بلکہ اعتدال سے کام لو اور اپنے تئیں بے جا کارروائیوں میں نہ ڈالو۔W الحکم جلد ۲ نمبر ۲ مورخه ۶ / مارچ ۱۸۹۸ ء صفحه ۲) وَاقْتُلُوهُمْ حَيْثُ ثَقِفْتُمُوهُمْ وَاخْرِجُوهُمْ مِنْ حَيْثُ أَخْرَجُوكُمْ وَالْفِتْنَةُ أَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ وَلَا تُقْتِلُوهُمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ حَتَّى يُقْتِلُوكُمْ فِيهِ ۚ فَإِنْ قتَلُوكُمْ فَاقْتُلُوهُمْ كَذلِكَ جَزَاءُ الْكَفِرِينَ یعنی قتل کرو انہیں جہاں پاؤ اور اسی طرح نکالوجس طرح انہوں نے نکالا۔(جنگ مقدس ، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۲۵۵) وَقْتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ لِلَّهِ فَإِنِ انْتَهَوْا فَلَا عُدْوَانَ الا عَلَى الظَّلِمِينَ ۱۹۴ یعنی اس حد تک ان کا مقابلہ کرو کہ ان کی بغاوت دُور ہو جاوے اور دین کی روکیں اُٹھ جائیں اور حکومت اللہ کے دین کی ہو جائے۔(جنگ مقدس ، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۲۵۵) یعنی عرب کے اُن مشرکوں کو قتل کرو یہاں تک کہ بغاوت باقی نہ رہ جاوے اور دین یعنی حکومت اللہ تعالی