تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 349
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۴۹ سورة البقرة اتَّقُوا اللهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ۔اور گھروں میں دیواروں پر سے کود کر نہ جایا کرو بلکہ گھروں میں ان گھروں کے دروازوں میں سے جاؤ۔اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۳۶) وَقَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللهِ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوا إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ یعنی خدا کی راہ میں اُن لوگوں کے ساتھ لڑو جو لڑنے میں سبقت کرتے ہیں اور تم پر چڑھ چڑھ کے آتے ہیں مگر ان پر زیادتی نہ کرو اور تحقیقاً یا در کھوا کہ خدا زیادتی کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۳۹۲) اس آیت کا ماحصل یہ ہے کہ جو لوگ تمہیں قتل کرنے کے لئے آتے ہیں اُن کا دفع شر کے لئے مقابلہ تو کرو مگر کچھ زیادتی نہ کرو۔(چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۳۹۲) جنگ صرف جرائم پیشہ لوگوں کے لئے تھا کہ مسلمانوں کو قتل کرتے تھے یا امن عامہ میں خلل ڈالتے تھے اور چوری ڈاکہ میں مشغول رہتے تھے اور یہ جنگ بحیثیت بادشاہ ہونے کے تھانہ بحیثیت رسالت۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : وَقَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوا إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ۔( ترجمہ ) تم خدا کے راہ میں ان لوگوں سے لڑو جو تم سے لڑتے ہیں۔یعنی دوسروں سے کچھ غرض نہ رکھو اور زیادتی مت کرو۔خدا زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔(چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۲۴۳) یعنی جو لوگ تم سے لڑتے ہیں ان کا مقابلہ کرو اور پھر بھی حد سے مت بڑھو کیونکہ خدا تعالیٰ حد سے بڑھنے جنگ مقدس ، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۲۵۵) والوں کو دوست نہیں رکھتا۔اور تم خدا کی راہ میں ان سے جو تم سے لڑیں لڑ ولیکن حد سے مت بڑھو اور کوئی زیادتی مت کرو کہ خدا زیادتی کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔(شہادت القرآن، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۳۳۶) جب بے رحم کا فروں کا ظلم اس حد تک پہنچ گیا، خدا نے جو آخر اپنے بندوں پر رحم کرتا ہے۔اپنے رسول پر اپنی وحی نازل کی کہ مظلوموں کی فریاد میرے تک پہنچ گئی۔آج میں اجازت دیتا ہوں کہ تم بھی اُن کا مقابلہ کرو اور یا درکھو کہ جو لوگ بے گناہ لوگوں پر تلوار اُٹھاتے ہیں وہ تلوار سے ہی ہلاک کئے جائیں گے۔مگر تم کوئی زیادتی مت کرو کہ خدا از یادتی کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔(پیغام صلح، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۴۶۷، ۴۶۸)