تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 19
تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام ۱۹ سورة البقرة آریہ سماج کے اندر ایک نئیش ہے وہ بے جا طور سے مسلمانوں پر نکتہ چینی کرتے ہیں اور اعتراض کرنا ہی اپنے مذہب کی خوبی اور کمال پیش کرتے ہیں لیکن جب ان سے پوچھا جاوے کہ اسلام کے مقابلہ میں روحانیت پیش کرو تو کچھ نہیں۔نکتہ چینی کرنا کوئی خوبی کی بات نہیں ہوسکتی۔وہ شخص بڑا بدنصیب اور نادان ہے جو بغیر اس کے کہ کسی منزل پر پہنچا ہو دوسروں پر نکتہ چینی کرنے لگے۔ایک بچہ جو اقلیدس کے اصولوں سے نا واقف ہے اور ان نتائج سے بے خبر ہے جو اس کی اشکال سے پیدا ہوتے ہیں وہ ان ٹیڑھی لکیروں کو دیکھ کر کب خوش ہوسکتا ہے وہ تو اعتراض کرے گا لیکن عقلمندوں کے نزدیک اس اعتراض کی کیا وقعت اور حقیقت ہو سکتی ہے۔ایسا ہی حال ان آریوں کا ہے۔وہ اعتراض کرتے ہیں مگر خود حق اور حقیقت سے بے خبر اور محروم ہیں۔وہ اللہ تعالیٰ کی قدرتوں سے آگاہ نہیں اور اس کی طاقتوں کا انہیں علم نہیں ہے اور نہ انہیں وہ حواس ملے ہیں جو وہ اسی عالم میں بہشتی نظاروں کو دیکھ سکیں اور اللہ تعالیٰ کی طاقتوں اور قدرتوں کے نمونے مشاہدہ کریں ایسے مذہب کی بنیاد بالکل ریت پر ہے وہ آج بھی نہیں اور کل بھی نہیں۔یہ خوب یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ کسی نا بینا مذہب کی تائید نہیں کرتا اور کوئی نصرت اسے نہیں دی جاتی۔اسلام کی سچائی کی یہی بڑی زبردست دلیل ہے کہ ہر زمانہ میں اللہ تعالیٰ اس کی نصرت فرماتا ہے اور اس زمانہ میں بھی خدا تعالیٰ نے مجھے بھیجا ہے تا میں اس کی تازہ بتازہ نصرتوں کا ثبوت دوں۔چنانچہ تم میں سے کوئی بھی ایسا نہیں ہو گا جس نے خدا تعالیٰ کے نشانات نہ دیکھے ہوں؟ اس کے بالمقابل ہمیں کوئی بتائے کہ وید کیا لایا؟ وہ تو بالکل ادھورا ہے دوسرے لوگوں کو تو خواب بھی آجاتی ہے مگر دید والوں کے نزدیک خواب بھی بے حقیقت چیز ہے اور وہ بھی نہیں آسکتی۔جبکہ وہ دروازہ جو اللہ تعالیٰ کی طرف جانے کے لئے یقینی دروازہ ہے بند ہے تو اور وسائل خدارسی کے کیا ہو سکتے ہیں؟ میں سچ کہتا ہوں کہ جہاں تک میں نے اس فرقہ کے حالات دیکھے ہیں۔ان میں شوخیوں کے سوا کچھ نہیں دیکھا یا بعض ایسے لوگ اس میں داخل ہوتے ہیں کہ انہیں خبر بھی نہیں ہوتی کہ مذہب کی اصل غرض کیا ہے؟ غرض اسلام ایک ایسا پاک مذہب ہے جو ساری نیکیوں کا حقیقی سر چشمہ اور منبع ہے اس لئے کہ نیکیوں کی جڑھ ہے اللہ تعالی پر کامل ایمان۔اور وہ بدون اس کے پیدا نہیں ہوتا کہ خدا تعالیٰ کی قدرتوں اور طاقتوں کے عجائبات اور نشانات تازہ بتازہ دیکھتا ر ہے۔اور یہ بجز اسلام کے کسی دوسرے کو حاصل نہیں اگر ہے تو کوئی پیش کرے ؟ علاوہ بریں اسلام کی یہ بھی ایک خوبی ہے کہ بعض فطرتی نیکیاں جو انسان کرتا ہے یہ ان پر از دیا د کرتا اور انہیں کامل کرتا ہے اس لئے ہی ھدی للمتقین فرمایا ، هُدًى لِّلظَّالِمِينَ يَا لِلْكَافِرِينَ نہیں